المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6612
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط (2) قال: مَعقِلُ بن يَسَار بن عبد الله بن حَرَاق بن لَأْي بن كعب بن هُذْمة بن لاطِم بن عثمان بن عَمرو بن أُدِّ بن طابِخَة، يُكنَى أبا عليٍّ، وله خِطَّة بالبَصْرة، مات مَعقِلُ بن يَسَار في إمْرةِ ابن زيادٍ سنة ثمان وخمسين.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ معقل بن یسار بن عبداللہ مزنی کی کنیت ابوعلی ہے اور ان کا بصرہ میں ایک مخصوص علاقہ تھا، ان کی وفات عبیداللہ بن زیاد کے دورِ امارت میں 58 ہجری میں ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في "طبقاته" ص 37، وزاد فيها بين عبد الله وحراق: مُعبِّرًا، وبين كعب وهُذمة: عبدَ ابنَ ثور.
حوالہ / مصدر: خلیفہ بن خیاط نے اپنی "طبقات" ص 37 میں اسے روایت کیا ہے، اور وہاں عبد اللہ اور حراق کے درمیان "مُعبِّرًا" کا نام، جبکہ کعب اور ہذمہ کے درمیان "عبد بن ثور" کا اضافہ کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: خلیفہ بن خیاط نے اپنی "طبقات" ص 37 میں اسے روایت کیا ہے، اور وہاں عبد اللہ اور حراق کے درمیان "مُعبِّرًا" کا نام، جبکہ کعب اور ہذمہ کے درمیان "عبد بن ثور" کا اضافہ کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6612 سے ماخوذ ہے۔