کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں نو اختلافات کا بیان
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن مَندَهْ الأصبهاني، حَدَّثَنَا بكر بن بكَّار، حَدَّثَنَا عمر بن علي بن مُقدَّم، حَدَّثَنَا سفيان بن حسين عن الزُّهْري، عن المُحرَّر بن أبي هريرة قال: كان اسمُ أبي عبدَ عمرِو بنَ عبدِ غَنْم (4).
حافظ طلحہ بابر
محرر بن ابی ہریرہ سے مروی ہے کہ میرے والد کا نام عبد عمرو بن عبد غنم تھا۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني بعضُ أصحابي، عن أبي هريرة قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ شمسِ بن صَخْر، فسمَّاني رسول الله ﷺ عبد الرحمن (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبد شمس بن صخر تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبدالرحمن رکھا۔“
وحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عيسى التَّنِّيسي، حَدَّثَنَا عمرو بن أبي سَلَمة، عن سعيد بن عبد العزيز قال: كان اسم أبي هريرة عبدَ غَنْم (2).
حافظ طلحہ بابر
سعید بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام (زمانہ جاہلیت میں) ”عبد غنم“ تھا۔
سمعتُ أبا علي الحافظ يقول: سمعت أبا بكر محمدَ بن إسحاق يقول: سمعت محمدَ بن يحيى يقول: سمعت أبا مُسهِر يقول: أبو هريرة اسمه عليُّ بن عبدِ شمس. قال محمد بن يحيى: وسمعت أحمدَ بن حَنبَل يقول: حَدَّثَنَا أبو عُبيدة الحدَّاد قال: اسم أبي هريرة عبدُ الله (3).
حافظ طلحہ بابر
ابومسہر سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام ”علی بن عبد شمس“ تھا۔ جبکہ امام احمد بن حنبل، ابوعبیدہ الحداد کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ان کا نام ”عبداللہ“ تھا۔
أخبرني الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيْسي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حبيب قال: اسم أبي هريرة عبدُ نُهْم بن عامر.
حافظ طلحہ بابر
یزید بن ابی حبیب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام ”عبد نہم بن عامر“ تھا۔
أخبرني عبد الله بن غانم الصَّيدَلاني، حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير قال: مات أبو هريرة بالعَقِيق، واسمه عبد الله بن عمرو، ومن الناس من يقول: ابن عبد العُزَّى.
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن بکیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات مقامِ ”عقیق“ میں ہوئی، ان کا نام ”عبداللہ بن عمرو“ تھا اور بعض لوگوں نے ”ابن عبدالعزیٰ“ بھی کہا ہے۔
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا أحمد بن حَنبَل قال: وأبو هريرة يقال: عبدُ شمس، ويقال: عبدُ نُهْم، ويقال: عبدُ غَنْم، ويقال: سُكَين (1).
حافظ طلحہ بابر
امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں عبد شمس، عبد نہم، عبد غنم اور سکین کے الفاظ کہے گئے ہیں۔
فأخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الملك بن زَنجوَيَهِ، حَدَّثَنَا ابن عائشةَ (2) قال: اسم أبي هريرة سُكَين. فقد استقرَّ هذا الخلافُ في اسم أبي هريرة على تسعة أوجُه أصحُّها عندي في الجاهلية عبدُ شمس، وفي الإسلام عبدُ الرحمن، وكذلك سِنُّه مختلف فيه:
حافظ طلحہ بابر
ابن عائشہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام ”سکین“ تھا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام میں پایا جانے والا یہ اختلاف نو (9) مختلف اقوال تک پہنچا ہے، میرے نزدیک ان میں سب سے صحیح قول یہ ہے کہ جاہلیت میں ان کا نام ”عبد شمس“ اور اسلام میں ”عبدالرحمن“ تھا، اسی طرح ان کی عمر میں بھی اختلاف ہے۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العبّاس بن محمد الدُّورِي، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين، حَدَّثَنَا حَجَّاج الأعور، حَدَّثَنَا أبو مَعشَر (3) قال: هَلَكَ أبو هريرة في إمارةِ معاوية سنةَ ثمانٍ وخمسين، ومات في تلك السنة سعيدُ بن العاص وعائشةُ وسعدُ بن مالك.
حافظ طلحہ بابر
ابو معشر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 58 ہجری میں ہوئی، اور اسی سال سعید بن عاص، سیدہ عائشہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی اللہ عنہم اجمعین کی وفات ہوئی۔