حدیث نمبر: 6276
فأخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الملك بن زَنجوَيَهِ، حَدَّثَنَا ابن عائشةَ (2) قال: اسم أبي هريرة سُكَين. فقد استقرَّ هذا الخلافُ في اسم أبي هريرة على تسعة أوجُه أصحُّها عندي في الجاهلية عبدُ شمس، وفي الإسلام عبدُ الرحمن، وكذلك سِنُّه مختلف فيه:
حافظ طلحہ بابر

ابن عائشہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام ”سکین“ تھا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام میں پایا جانے والا یہ اختلاف نو (9) مختلف اقوال تک پہنچا ہے، میرے نزدیک ان میں سب سے صحیح قول یہ ہے کہ جاہلیت میں ان کا نام ”عبد شمس“ اور اسلام میں ”عبدالرحمن“ تھا، اسی طرح ان کی عمر میں بھی اختلاف ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6276
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6276] [ترقيم الشركة 6209]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هو عبيد الله بن محمد بن حفص القرشي التيمي، ويعرف أيضًا بالعَيْشي وبالعائشي، لأنَّهُ من ولد عائشة بنت طلحة بن عبيد الله، وهو إمام عالم أخباري ثقة. انظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 10/ 564.
ناموں کی تحقیق: یہ عبید اللہ بن محمد التیمی ہیں جنہیں 'العیشی' یا 'العائشی' کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حضرت عائشہ بنت طلحہ کی اولاد سے ہیں۔ وہ ایک ثقہ امام اور تاریخ دان (اخباری) تھے۔ (دیکھیں: سیر اعلام النبلاء 10/ 564)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6276 سے ماخوذ ہے۔