کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ایک راہب کی طرف سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی خبر دینا
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، عن الضحاك بن عثمان، حدَّثه مَخْرمةُ بن سُليمان الوالِبيّ، عن إبراهيم بن محمد بن طلحة، قال: قال طلحة بن عُبيد الله: حضرتُ سوقَ بُصْرى، فإذا راهبٌ في صَومعَتِه يقول: سَلُوا أهلَ هذا المَوسِم: أفيهم أحدٌ من أهلِ الحَرَم؟ قال طلحةُ: قلتُ: نعم، أنا، فقال: هل ظهَرَ أحمدُ بعدُ؟ قال قلتُ: ومن أحمدُ؟ قال: ابن عبد الله بن عبد المطّلب، هذا شَهرُه الذي يَخرُج فيه، وهو آخِرُ الأنبياء، مَخرَجُه من الحَرَم ومُهاجَرُه إلى نَخْل وحَرّةٍ وسِباخٍ، فإياكَ أَن تُسبَقَ إليه، قال طلحةُ: فوَقَع في قَلْبي ما قال، فخرجتُ سريعًا حتى قَدِمتُ مكةَ، فقلت: هل كان من حَدَثٍ؟ قالوا: نعم، محمد بن عبد الله الأمينُ تَنبّأ وقد تَبِعَه ابن أَبِي قُحَافَة، قال: فخرجتُ حتى دخلتُ على أبي بكر، فقلتُ: اتّبعتَ هذا الرجلَ؟ قال: نعم، فانطَلِقْ إليه فادخُل عليه فاتَّبِعْه، فإنه يَدعُو إلى الحقِّ، فأخبَرَه طلحةُ بما قال الراهبُ، فخرج أبو بكر بطلحةَ، فدخَلَ به على رسول الله ﷺ، فأسلَمَ، طلحةُ، وأخبرَ رسولَ الله ﷺ بما قال الراهبُ، فسُرَّ رسولُ الله ﷺ، فلما أسلمَ أبو بكر وطلحةُ أخذَهما نوفلُ بن خُوَيلد بن العَدَوية فشدَّهُما في حَبْلٍ واحدٍ، ولم يَمنَعْهما بنو تَيْم، وكان نوفلُ بن خُوَيلد يُدعَى أسَدَ قُريش، فلذلك سُمِّي أبو بكر وطلحة القَرِينَين. ولم يشهد طلحةُ بن عُبيد الله بدرًا، وذلك أنَّ رسولَ الله ﷺ كان وجَّهَه وسعيدَ بن زيد يتحَسّسان خَبرَ العِيرِ، فانصرَفا وقد فَرَغَ رسولُ الله ﷺ مِن قتالِ مَن لَقيَه من المُشركين، فلَقِيَاه بتُرْبان (1) فيما بين مَلَلٍ (2) وسَيَالةَ على المَحبَّة مُنصرِفًا من بدر، ولكنه شهد أُحدًا وغيرَ ذلك من المشاهِد مع رسولِ الله ﷺ، وكان ممَّن ثَبَتَ مع رسول الله ﷺ يومَ أُحُد حين وَلّى الناسُ وبايَعَه على الموتِ، ورَمَى مالكُ بنُ زُهَير رسولَ الله ﷺ يومَئذٍ فاتَّقى طلحةُ بيدِه وجْهَ رسول الله ﷺ فأصابَ خِنْصَرَه فَشَلَّتْ، فقال: حَسِّ حَسِّ، حين أصابتْه الرَّمْية، فذُكِر أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "لو قال: باسمِ الله، لدَخَل الجنةَ والناسُ يَنظُرون"، وضُرِبَ طلحةُ يومَئِذٍ في رأسِه المُصلَّبةَ (1)، ضَرَبه رجلٌ من المشركين ضربَتين: ضربةً وهو مُقبِل، وضربةً وهو مُعرِض عنه، وكان ضِرارُ بن الخَطّاب الفِهْريُّ يقول: أنا واللهِ ضربتُه يومئذٍ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن محمد بن طلحہ سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں بصریٰ کے بازار میں موجود تھا کہ وہاں ایک راہب اپنے گرجے میں پکار رہا تھا: ”اس میلے کے لوگوں سے پوچھو کہ کیا ان میں حرم (مکہ) کا کوئی رہنے والا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں، میں ہوں۔“ اس نے پوچھا: ”کیا احمد کا ظہور ہو گیا؟“ میں نے کہا: ”کون احمد؟“ اس نے کہا: ”عبداللہ بن عبدالمطلب کے صاحبزادے، یہ ان کے ظہور کا مہینہ ہے، وہ آخری نبی ہیں، ان کا خروج حرم سے ہوگا اور وہ کھجوروں، سنگلاخ زمین اور شوریدہ مٹی والے علاقے کی طرف ہجرت کریں گے، لہٰذا تم ان تک پہنچنے میں پہل کرنا اور تم سے کوئی آگے نہ نکل جائے۔“ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی بات میرے دل میں گھر کر گئی، میں تیزی سے نکلا یہاں تک کہ مکہ پہنچا اور پوچھا: ”کیا یہاں کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں، محمد بن عبداللہ امین نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ابن ابی قحافہ (سیدنا ابوبکر) ان کے متبع بن گئے ہیں۔“ میں وہاں سے نکلا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر پوچھا: ”کیا آپ نے اس شخص کی پیروی کر لی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، تم بھی ان کے پاس چلو اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا اتباع کرو کیونکہ وہ حق کی طرف بلاتے ہیں۔“ پھر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں راہب کی بات بتائی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو راہب کی بات بتائی جس سے رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے۔ جب سیدنا ابوبکر اور طلحہ رضی اللہ عنہما اسلام لائے تو نوفل بن خویلد بن عدویہ نے انہیں پکڑ کر ایک ہی رسی میں جکڑ دیا اور قبیلہ بنو تیم نے انہیں (اس ظلم سے) نہیں بچایا، نوفل بن خویلد کو ”اسدِ قریش“ کہا جاتا تھا، اسی وجہ سے سیدنا ابوبکر اور طلحہ رضی اللہ عنہما کو ”القرینین“ (ایک ساتھ جڑے ہوئے) کہا جاتا ہے۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو (قریش کے) قافلے کی خبر لانے کے لیے بھیجا تھا، وہ دونوں اس وقت واپس آئے جب رسول اللہ ﷺ مشرکین سے قتال سے فارغ ہو چکے تھے، پھر ان کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے بدر سے واپسی کے راستے پر ملل اور سیالہ کے درمیان ”تربان“ کے مقام پر ہوئی، لیکن انہوں نے غزوہ احد اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ دیگر تمام معرکوں میں شرکت کی۔ وہ ان جاں نثاروں میں شامل تھے جو احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس وقت ثابت قدم رہے جب لوگ منتشر ہو گئے تھے اور انہوں نے آپ ﷺ کے دستِ مبارک پر موت کی بیعت کی تھی۔ اس دن مالک بن زہیر نے رسول اللہ ﷺ پر (تیر کا) وار کیا تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا دفاع کیا، جس سے تیر ان کی چھوٹی انگلی پر لگا اور وہ شل ہو گئی، جب انہیں تیر لگا تو ان کی زبان سے نکلا: «حَسِّ حَسِّ» (درد کی پکار)، تو ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ (درد کے وقت) «بِاسْمِ اللهِ» کہہ دیتے تو وہ (اسی حالت میں) جنت میں داخل ہو جاتے اور لوگ انہیں دیکھ رہے ہوتے“۔ اس دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سر پر دو ضربیں لگیں، ایک مشرک نے ان پر دو وار کیے: ایک اس وقت جب وہ سامنے تھے اور ایک اس وقت جب وہ پیٹھ پھیر رہے تھے، اور ضرار بن خطاب فہری کہا کرتے تھے: ”اللہ کی قسم! اس دن انہیں میں نے ہی مارا تھا“۔
فقال ابن عُمر: وكان طلحةُ يُكنى أبا محمد، وأمُّه الصعبةُ ابنةُ عبد الله الحَضْرمي، وقُتل طلحةُ يومَ الجَمَل، قَتَله مَروانُ بن الحَكَم، وكان له ابنٌ يقال له: محمدٌ، وهو الذي يُدعَى السَّجَّادَ، وبه كان طلحةُ يُكنى، قُتِل مع أبيه طلحةَ يومَ الجَمَل، وكان طلحةُ قديمَ الإسلام (3).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر نے بیان کیا کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد تھی، ان کی والدہ صعبة بنت عبداللہ حضرمی تھیں، انہیں جنگِ جمل کے دن مروان بن حکم نے شہید کیا، ان کے ایک صاحبزادے محمد تھے جو ”السجاد“ (نہایت عبادت گزار) کے لقب سے معروف تھے اور انہی کی نسبت سے سیدنا طلحہ کی کنیت تھی، وہ بھی اپنے والد کے ہمراہ جنگِ جمل میں شہید ہوئے، سیدنا طلحہ قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے۔
قال ابن عمر: فحدَّثني إسحاقُ بن يحيى، عن جَدّته سُعْدَى بنت عَوف المُرِّيَّة أمِّ يحيى بن طلحة، قالت: قُتل طلحةُ بنُ عُبيد الله وفي يدِ خازِنِه ألفُ ألفِ دِرهم ومئتا ألفِ دِرهم، وقُوِّمت أصولُه وعَقَارُه بثلاثين ألفَ ألفِ دِرهم (1)، وكان فيما ذُكر جَوَادًا بالمالِ واللِّبْسِ والطعامِ، وقُتِل يومَ قُتِل وهو ابن اثنتَين وسِتِّين سنةً (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر نے اپنی سند سے سیدنا طلحہ کی زوجہ سعدی بنت عوف مریہ سے روایت کیا کہ جب سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ان کے خزانچی کے پاس بارہ لاکھ درہم نقد موجود تھے جبکہ ان کی جائیداد اور زمینوں کی قیمت کا اندازہ تین کروڑ درہم لگایا گیا تھا، وہ مال و دولت، لباس اور کھانے کے معاملے میں بہت زیادہ سخی تھے اور شہادت کے وقت ان کی عمر باسٹھ برس تھی۔
قال ابن عمر: وحدَّثنا أسدُ بن إبراهيم بن محمد بن طلحة، عن محمد بن زيد بن المُهاجِر، قال: كان طلحةُ يومَ قُتل ابنَ أربعٍ وستين سنةً (3).
حافظ طلحہ بابر
اسد بن ابراہیم نے محمد بن زید بن مہاجر سے روایت کیا کہ شہادت کے وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی عمر چونسٹھ سال تھی۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، حدثني إبراهيم بن المُنذر (4)، عن عبد العزيز بن عِمران، حدثني إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة، قال: كان طلحةُ بن عُبيد الله أبيضَ يَضرِبُ إلى الحُمْرة، مَربُوعًا هو إلى القِصَر أقربُ، رَحْبَ الصَّدرِ، عَرِيضَ المَنكِبَين، إذا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جميعًا، ضَخْمَ القَدَمين، حَسَنَ الوَجْهِ، دَقِيقَ العِرْنِينِ، إذا مشى أسرَعَ، وكان لا يُغيِّر شَعْرَه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5588 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5588 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی رنگت سفید مائل بہ سرخی تھی، ان کا قد میانہ تھا جو تھوڑا پست قامتی کی طرف مائل تھا، وہ چوڑے سینے اور کشادہ کندھوں والے تھے، جب کسی کی طرف مڑتے تو پورے بدن کے ساتھ مڑ کر متوجہ ہوتے، ان کے پاؤں بڑے اور چہرہ حسین تھا، ان کی ناک کی ہڈی باریک تھی، وہ چلتے وقت تیز قدم اٹھاتے تھے اور اپنے بالوں کی سفیدی کو (خضاب وغیرہ سے) تبدیل نہیں کرتے تھے۔
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا عباد بن الوليد الغُبَري (2)، حدثنا حَبّان، حدثنا شريك بن الخَطّاب (3)، حدثني عُتْبة بن صَعْصَعةَ بن الأحْنَف، عن عِكْراشٍ، قال: كنا نُقاتل عليًّا مع طلحةَ ومعنا مَروانُ، قال: فانهزَمْنا، قال: فقال مَروانُ: لا أُدرِكُ بثَأْري بعد هذا اليوم من طلحةَ، قال: فرَمَاهُ بسهمٍ فقَتَله (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5589 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5589 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عکراش سے روایت ہے کہ ہم مروان کے ہمراہ سیدنا طلحہ کی معیت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑ رہے تھے، جب ہمیں ہزیمت ہوئی تو مروان نے کہا: ”آج کے دن کے بعد مجھے طلحہ سے اپنا انتقام لینے کا موقع نہیں ملے گا“، چنانچہ اس نے ان پر تیر چلایا جس سے وہ شہید ہو گئے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا أشْهَل بن حاتم، عن ابن عَون، قال: قال نافعٌ: طلحةُ بن عُبيد الله قتلَه مروانُ بن الحَكَم (1).
حافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو مروان بن حکم نے قتل کیا تھا۔