کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا محمد بن عِمران بن أبي ليلى، حدثنا سعيد بن عُبيد الله بن الوليد الوَصَّافي (1)، عن أبيه، قال: لما قَتل عَمرُو بن جُرمُوزٍ الزُّبَيرَ بنَ العوام أنشَدتِ امرأتُه عاتكةُ بنت زيد بن عَمرو بن نُفيل - وكانت من المُهاجِرات - تقول: غَدَرَ ابن جُرمُوزٍ بفارسِ بُهْمةٍ … يومَ اللِّقاء وكان غيرَ مُعرِّدِ يا عَمرُو لو نَبَّهتَه لَوَجَدْتَهُ … لا طائشًا رَعِشَ البَنَانِ ولا اليَدِ ثَكِلتْكَ أمُّك هل ظَفِرتَ بمِثْلِهِ … فيمن مَضى ممَّن يَرُوحُ ويَغتَدِي كم غَمْرةٍ قد خاضَها لم يَثْنِهِ … عنها طِرَادُك يا ابنَ فَقْعِ الفَدْفَدِ ذكرُ مناقب طلحةَ بن عُبيدِ الله التَّيْمي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبید اللہ بن ولید وصافی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب عمرو بن جرموز نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تو ان کی زوجہ عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہا نے اشعار پڑھے —اور وہ ہجرت کرنے والی جلیل القدر خواتین میں سے تھیں— وہ کہہ رہی تھیں: ”ابن جرموز نے مقابلے کے دن ایک ایسے عظیم شہسوار کے ساتھ غداری کی جو میدان سے بھاگنے والا نہیں تھا۔ اے عمرو! اگر تم انہیں بیدار یا چوکنا کر دیتے تو تم انہیں ایسا پاتے کہ نہ ان کی انگلیاں کانپتیں اور نہ ہاتھ۔ تیری ماں تجھے روئے! کیا تو نے ماضی میں صبح و شام آنے جانے والوں میں سے ان جیسی کسی ہستی پر غلبہ پایا ہے؟ انہوں نے کتنے ہی کٹھن معرکوں میں شمولیت اختیار کی جن سے تمہارے جیسا بزدل انہیں ہٹا نہیں سکا“۔
طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: طلحةُ بن عُبيد الله بن عُثمان بن عَمرو بن كَعْب بن سعْد بن تَيْم بن مُرَّة، وكان بالشام، فكَلَّم رسولَ الله ﷺ في سَهْمِه، فَضَرَب له بسَهْمِه، فقال: وأجْرِي يا رسولَ الله؟ قال: "وأجرُك من يومِ بَدْرٍ" (2).
حافظ طلحہ بابر
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ رضی اللہ عنہ ملک شام میں تھے (جب غزوہ بدر پیش آیا)، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے (مالِ غنیمت میں) اپنے حصے کے متعلق عرض کی تو آپ ﷺ نے ان کا حصہ مقرر فرما دیا، انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا مجھے اجر بھی ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہارا اجر بدر کے دن سے (ثابت) ہے۔“
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن محمد بن رَجَاء بن السِّنْدي، حدثنا عبد الله بن شَبِيب المَدَني (1)، حدثنا إبراهيم بن يحيى الشَّجَري، حدثنا أبي، عن خازم بن الحُسين، عن عبد الله بن أبي بكر، عن [الزُّهْري] (2) عن عبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عباس، قال: أسلمَتْ أمُّ أبي بكر الصِّديق، وأمُّ عثمان، وأمُّ طلحة، وأمُّ عمّار بن ياسر، وأمُّ عبد الرحمن بن عوف، وأمُّ الزُّبير، وأسلمَ سعدٌ وأمُّه في الحياةِ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کی ماؤں نے اسلام قبول کیا، نیز سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ نے بھی (نبی کریم ﷺ کی) زندگی میں اسلام قبول کیا۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، قال: قَدِمَ طلحةُ بن عُبيد الله بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تَيْم (1) بن مُرّة من الشام بعدما رجع النبيُّ ﷺ من بدرٍ، فكَلَّم النبيَّ ﷺ: في سَهْمِه، فقال له النبيُّ ﷺ: "لك سَهمُك" قال: وأَجري يا رسولَ الله؟ قال: "ولكَ أجرُك" (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی بدر سے واپسی کے بعد ملک شام سے تشریف لائے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے (مالِ غنیمت میں) اپنے حصے کے بارے میں کلام کیا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارا حصہ تمہارے لیے (ثابت) ہے۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میرا اجر بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہارے لیے تمہارا اجر بھی ہے۔“