حدیث نمبر: 5686M1
فقال ابن عُمر: وكان طلحةُ يُكنى أبا محمد، وأمُّه الصعبةُ ابنةُ عبد الله الحَضْرمي، وقُتل طلحةُ يومَ الجَمَل، قَتَله مَروانُ بن الحَكَم، وكان له ابنٌ يقال له: محمدٌ، وهو الذي يُدعَى السَّجَّادَ، وبه كان طلحةُ يُكنى، قُتِل مع أبيه طلحةَ يومَ الجَمَل، وكان طلحةُ قديمَ الإسلام (3).
حافظ طلحہ بابر

ابن عمر نے بیان کیا کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد تھی، ان کی والدہ صعبة بنت عبداللہ حضرمی تھیں، انہیں جنگِ جمل کے دن مروان بن حکم نے شہید کیا، ان کے ایک صاحبزادے محمد تھے جو ”السجاد“ (نہایت عبادت گزار) کے لقب سے معروف تھے اور انہی کی نسبت سے سیدنا طلحہ کی کنیت تھی، وہ بھی اپنے والد کے ہمراہ جنگِ جمل میں شہید ہوئے، سیدنا طلحہ قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5686M1
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5686M1] [ترقيم الشركة 5632]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) وذكر مثلَه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 196، وكان ابن سعد صاحِبَ الواقديِّ وكاتبه.
حوالہ / مصدر: (3) اسی کی مثل ابن سعد نے "طبقات" 3/ 196 میں ذکر کیا ہے، اور ابن سعد واقدی کے شاگرد اور کاتب تھے۔
وقد جاء قتلُ مروانَ بن الحكم لطلحة بن عبيد الله يومَ الجمل عن غير واحد كما سيأتي لاحقًا عند المصنف.
تفصیلِ روایت: جنگ جمل کے دن مروان بن حکم کے ہاتھوں طلحہ بن عبید اللہ کا قتل ہونا ایک سے زائد راویوں سے مروی ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں آگے آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5686 سے ماخوذ ہے۔