حدیث نمبر: 5687
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، حدثني إبراهيم بن المُنذر (4)، عن عبد العزيز بن عِمران، حدثني إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة، قال: كان طلحةُ بن عُبيد الله أبيضَ يَضرِبُ إلى الحُمْرة، مَربُوعًا هو إلى القِصَر أقربُ، رَحْبَ الصَّدرِ، عَرِيضَ المَنكِبَين، إذا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جميعًا، ضَخْمَ القَدَمين، حَسَنَ الوَجْهِ، دَقِيقَ العِرْنِينِ، إذا مشى أسرَعَ، وكان لا يُغيِّر شَعْرَه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5588 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی رنگت سفید مائل بہ سرخی تھی، ان کا قد میانہ تھا جو تھوڑا پست قامتی کی طرف مائل تھا، وہ چوڑے سینے اور کشادہ کندھوں والے تھے، جب کسی کی طرف مڑتے تو پورے بدن کے ساتھ مڑ کر متوجہ ہوتے، ان کے پاؤں بڑے اور چہرہ حسین تھا، ان کی ناک کی ہڈی باریک تھی، وہ چلتے وقت تیز قدم اٹھاتے تھے اور اپنے بالوں کی سفیدی کو (خضاب وغیرہ سے) تبدیل نہیں کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5687
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عبد العزيز بن عمران» [ترقيم الرساله 5687] [ترقيم الشركة 5634] [ترقيم العلميه 5588]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الجنيد، وإنما الصحيح المنذر، فهو إبراهيم بن المنذر الحِزامي، كما في سائر مصادر التخريج.
نوٹ / توضیح: (4) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الجنید" بن گیا ہے، صحیح "المنذر" ہے، یہ "ابراہیم بن المنذر الحزامی" ہیں جیسا کہ تخریج کے تمام مصادر میں ہے۔
(1) إسناده ضعيف، عبد العزيز بن عمران -وهو ابن عبد العزيز الزهري- وإسحاق بن يحيى بن طلحة ضعيفان.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ عبد العزیز بن عمران (ابن عبد العزیز الزہری) اور اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ دونوں ضعیف ہیں۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (1341)، والطبراني في "الكبير" (191)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (366)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 25/ 63 من طريق علي بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (1341)، طبرانی نے "الکبیر" (191)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (366) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 25/ 63 میں علی بن عبد العزیز کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5687 سے ماخوذ ہے۔