کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم ایک ہی سال فوت ہوئے
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفَقِيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزامي، حدثنا محمد بن طلحة التَّيْمي، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة، قال: كان عليُّ بن أبي طالب والزُّبيرُ وطلحةُ بن عُبيد الله وسعدُ بن أبي وقّاص كان يُقال: عِذَارُ عامٍ واحدٍ، قال إبراهيمُ: لأنهم وُلِدوا في عامٍ واحدٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5581 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5581 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ «عذار عام واحد» (ایک ہی سال کے پٹے) ہیں، ابراہیم کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب ایک ہی سال پیدا ہوئے تھے۔
أخبرني أبو طاهر محمد بن أحمد الجُوَيني، حدثنا أبو بكر بن رَجاء بن السَّنْدي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أُسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه (1)، قال: ورثَتْ عاتكةُ بنتُ زيد بن عمرو بن نُفَيلٍ الزُّبَيرَ، وكانت زوجتَه، فبلغَ حِصّتُها من الميراث ثمانين ألفَ دِرهَمٍ، وقالت تَرثيه: غَدَرَ ابن جُرمُوزٍ بفَارسِ بُهْمةٍ … يومَ اللِّقاء وكانَ غيرَ مُعَرِّدِ يا عَمرُو لو نَبَّهتَه لَوجَدْتَه … لا طائشًا رَعِشَ البَنَانِ ولا اليَدِ ثَكِليْكَ أَمُّكَ إن ظَفِرتَ بفارِسٍ … فيما مضى مما يَرُوحُ ويَغْتَدي كم غَمْرةٍ قد خاضَها لم يَثْنِهِ … عنها طِرادُكَ يا ابنَ فَقْع الفَدْفَدِ واللهِ رَبِّك إن قَتَلتَ لَمُسلِمًا … حَلَّت عليكَ عُقُوبةُ المتعمِّدِ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5582 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5582 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی وفات پر ان کی زوجہ عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہا ان کی وارث بنیں، ان کے حصے میں آنے والی میراث کی رقم اسی ہزار درہم تک پہنچی۔ انہوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا مرثیہ بیان کرتے ہوئے یہ اشعار کہے: ”ابن جرموز نے معرکے کے دن ایک ایسے بہادر شہسوار کے ساتھ غداری کی جو کبھی پیٹھ دکھانے والا نہیں تھا۔ اے عمرو! اگر تم انہیں چوکنا کر دیتے تو تم انہیں ایسا پاتے کہ نہ ان کی انگلیاں لرزتیں اور نہ ہی ہاتھ (یعنی وہ نہایت ثابت قدم رہتے)۔ تیری ماں تجھ پر روئے! کیا تو نے ماضی میں صبح و شام آنے جانے والوں میں سے کسی ایسے شہسوار پر فتح پائی ہے جو ان جیسا ہو؟ انہوں نے کتنے ہی کٹھن معرکوں کا سامنا کیا جن سے تمہارے جیسے بزدل انہیں پیچھے نہ ہٹا سکے، اللہ کی قسم جو تمہارا رب ہے! اگر تم نے کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کیا ہے تو تم پر جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی سزا ثابت ہو چکی ہے۔“