کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے واپس لوٹنا
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا عثمان بن خُرَّزاذَ الأَنطاكي، حَدَّثَنَا رَبيعة بن الحارث، حدثني محمد بن سليمان العابدُ، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال عليّ للزُّبير: أما تَذكُر يومَ كنتُ أنا وأنتَ في سَقِيفةِ قوم من الأنصار، فقال لك رسول الله ﷺ: "أَتُحِبُّه؟ " فقلتَ: وما يَمنَعُني؟ قال: "أمَا إنك ستَخْرُجُ عليه وتُقاتِلُه وأنتَ ظالمٌ"؟ قال: فرَجَعَ الزُّبيرُ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5573 - الحديث فيه نظر
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب میں اور آپ انصار کے ایک قبیلے کے سائبان میں موجود تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے آپ سے پوچھا تھا: ”کیا تم اس (علی) سے محبت کرتے ہو؟“ تو آپ نے جواب دیا تھا: مجھے کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”خبردار! تم عنقریب ان (علی) کے خلاف نکلو گے اور ان سے لڑو گے جبکہ تم زیادتی کرنے والے ہو گے۔““ (قیس کہتے ہیں:) پس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر میدان سے) واپس لوٹ گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5672
درجۂ حدیث محدثین: قوي لغيره
تخریج حدیث «قوي لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن سليمان العابد، وقد خالفه في إسناده يعلى بن عبيد الطَّنافسي الثقة، عند ابن أبي شيبة 15/ 283، وإسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (4454)، والعقيلي في "الضعفاء" (1000)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 18/ 409 و 411 ...» [ترقيم الرساله 5672] [ترقيم الشركة 5619] [ترقيم العلميه 5573]
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطَري ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد بن عبد الملك الرَّقَاشي، عن جَدّه عبد الملك، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود الدِّيليّ، قال: شهدتُ الزُّبَيرَ خرج يريدُ عليًّا فقال له عليٌّ: أَنشُدُك الله، هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول: "تُقاتِلُه وأنت له ظَالمٌ"؟ فقال: لم أذكُر، ثم مضى الزُّبَير مُنصَرِفًا (1).
هذا حديث صحيح عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، فقد روى عنه يزيدُ بن صُهَيب الفَقيرُ وفَضْلُ بن فَضَالة في إسنادٍ واحدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5574 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو حرب بن ابی الاسود دیلی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اس وقت موجود تھا جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف نکلے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”تم ان (علی) سے لڑو گے اور تم ان پر زیادتی کرنے والے ہو گے“؟“ انہوں نے جواب دیا: مجھے یاد نہیں تھا، پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ واپس پلٹ گئے۔
یہ حدیث ابو حرب بن ابی الاسود سے مروی ہونے کے لحاظ سے صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5673
درجۂ حدیث محدثین: قوي لغيره كسابقه
تخریج حدیث «قوي لغيره كسابقه، وهذا إسناد وهم فيه أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، فقد خالفه يعقوب بن إبراهيم الدورقي الثقة الحافظ عند أبي يعلى (666)، فرواه عن أبي عاصم - وهو الضحّاك بن مَخْلَد النبيل - عن عبد الله بن محمد بن عبد الملك الرقاشي، عن جده عبد الملك ...» [ترقيم الرساله 5673] [ترقيم الشركة 5620] [ترقيم العلميه 5574]
حَدَّثَنَا بذلك أبو عَمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر العَدْل المأمُونُ من أصلِ كتابه، حَدَّثَنَا عبدُ الله بن محمد بن سَوّار الهاشِمي، حَدَّثَنَا مِنْجابُ بن الحارث، حَدَّثَنَا عبد الله بن الأجْلَح، حدثني أبي، عن يزيدَ الفَقيرِ. قال منجابٌ: وسمعتُ فَضْل بن فَضَالة يُحدِّث به جميعًا عن أبي حَرْب بن أبي الأسود الدِّيْلي، قال: شهدتُ عليًّا والزبير، لما رَجَعَ الزُّبَيرُ على دابّته يشُقّ الصُّفُوف، فعَرَضَ له ابنُه عبدُ الله، فقال: ما لك؟ فقال: ذَكَر لي عليٌّ حديثًا سمعتُه من رسولِ الله ﷺ يقولُ: "لَتُقاتِلنَّه وأنتَ ظالمٌ له"، فلا أُقاتِلُه، قال: وللقتالِ جئتَ، إنما جئتَ لتُصلحَ بين الناس، ويُصلحَ اللهُ هذا الأمرَ بك، قال: قد حلفتُ أن لا أقاتِلَ، قال: فأعتِقْ غلامَك جَرْجِسَ، وقف حتَّى تُصلِح بين الناس، قال: فأعتَقَ غُلامَه جَرْجِس، ووقف، فلما اختلف أمرُ الناسِ ذهب على فَرسِه (1). وقد رُويَ إقرارُ الزُّبَيرِ لعليٍّ ﵄ بذلك من غير هذه الوجوهِ والرواياتِ:
حافظ طلحہ بابر
ابوحرب بن ابی الاسود دیلی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر لشکر کی صفیں چیرتے ہوئے واپس مڑے تو ان کے بیٹے سیدنا عبداللہ (بن زبیر) ان کے سامنے آئے اور پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: علی رضی اللہ عنہ نے مجھے وہ حدیث یاد دلائی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی کہ ”تم ضرور ان (علی) سے لڑو گے اور تم ان پر زیادتی کرنے والے ہو گے“، لہذا اب میں ان سے نہیں لڑوں گا، ان کے بیٹے نے کہا: ”آپ تو لڑنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے درمیان صلح کرانے آئے ہیں تاکہ اللہ آپ کے ذریعے اس معاملے کی اصلاح فرما دے“، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں قسم کھا چکا ہوں کہ نہیں لڑوں گا“، بیٹے نے کہا: ”تو پھر اپنے غلام جرجس کو (قسم کے کفارے میں) آزاد کر دیں اور یہیں ٹھہریں تاکہ لوگوں میں صلح کرا سکیں“، راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے اپنے غلام جرجس کو آزاد کر دیا اور وہیں رک گئے، پھر جب لوگوں کا معاملہ بگڑ گیا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5674
درجۂ حدیث محدثین: هذان إسنادان لا بأس برجالهما غير فضل بن فضالة في الإسناد الثاني
تخریج حدیث «هذان إسنادان لا بأس برجالهما غير فضل بن فضالة في الإسناد الثاني، فلم يظهر لنا من هو، وفي الرواة عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيْلي المُفضَّل بن فضالة بن أبي أمية القرشي مولاهم، فلعلَّه يكون هو، ويكون تحرَّف اسمه في هذا الإسناد، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 5674] [ترقيم الشركة 5621]
أخبرني أبو الوليد الإمام وأبو بكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قَطَن بن نُسَير، حدثنا جعفر بن سُليمان، حدثنا عبد الله بن محمد الرَّقَاشي، حدثني جدي، عن أبي جَرْوة (1) المازِني، قال: سمعت عليًّا والزُّبيرّ، وعليٌّ يقول له: نَشَدتُك باللهِ يا زبيرُ، أما سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول: إنك تُقاتِلُني وأنت لي ظالِمٌ؟ قال: بلى، ولكن نَسيتُ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابوجروہ مازنی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا، علی ان سے فرما رہے تھے: ”اے زبیر! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ ”تم مجھ سے لڑو گے اور تم مجھ پر زیادتی کرنے والے ہو گے“؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کیوں نہیں، لیکن میں بھول گیا تھا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5675
درجۂ حدیث محدثین: قوي لغيره كما سبق
تخریج حدیث «قوي لغيره كما سبق، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبد الله بن محمد الرَّقاشي - وهو ابن عبد الملك بن مسلم - فقد قال عنه البخاري: فيه نظر، وقال أبو حاتم: في حديثه نظر، وجده عبد الملك بن مسلم مجهول لم يرو عنه غير ابن ابنهِ عبد الله بن محمد.» [ترقيم الرساله 5675] [ترقيم الشركة 5622]
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الإمام، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا خالد بن يزيد القَرْني (3)، حدثنا جعفر بن سُليمان، عن عبد الله بن محمد الرَّقَاشي، عن جدّه عبد الملك بن مُسلم (4)، عن أبي جَرْوة المازِني، قال: سمعت عليًّا وهو يُناشِد الزُّبيرَ قال: أَنشُدُك الله يا زبيرُ، أما سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول: إنك تُقاتِلُني وأنت لي ظالمٌ؟ قال: بلى، ولكني نَسيتُ (1).
حافظ طلحہ بابر
ابوجروہ مازنی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا جبکہ وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دے رہے تھے، انہوں نے فرمایا: ”اے زبیر! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا تھا کہ ”تم مجھ سے لڑو گے اور تم مجھ پر زیادتی کرنے والے ہو گے“؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کیوں نہیں، لیکن میں بھول گیا تھا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5676
درجۂ حدیث محدثین: قوي لغيره
تخریج حدیث «قوي لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه،» [ترقيم الرساله 5676] [ترقيم الشركة 5623]
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا مُطَيَّن، حدثنا عمر بن محمد الأَسَدي، حدثني أبي، حدثنا شَريك، عن العباس بن ذَرِيح (2)، عن مُسلم بن نُذَير (3)، قال: كنا عند عليٍّ فجاء ابن جُرمُوزٍ يَستأذِنُ عليه، فقال عليٌّ: أتقتُلُ ابنَ صفيّةَ تَفخُّرًا؟ ائذَنُوا له وبَشِّرُوه بالنارِ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لكل نبيٍّ حَوَاريٌّ، وإنَّ الزُّبيرَ حَوَاريَّ وابنُ عَمَّتي" (4).
حافظ طلحہ بابر
مسلم بن نذیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ابن جرموز نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تو فخر کے طور پر صفیہ کے بیٹے کے قاتل (کی حیثیت سے) آیا ہے؟ اسے اندر آنے کی اجازت دے دو اور اسے جہنم کی آگ کی بشارت دے دو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور بے شک زبیر میرا حواری اور میرا پھوپھی زاد ہے۔““
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5677
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد الأسدي - وهو محمد بن الحسن بن الزُّبير، فهو ضعيف يعتبر به، وقد توبع، غير أن محمد بن الحسن وهم هنا في تعيين شيخ شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - فذكر أنه العباس بن ذَريح، وإنما هو ...» [ترقيم الرساله 5677] [ترقيم الشركة 5624]
فحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سلَمة، عن عاصم، عن زرِّ بن حُبيش، قال: قيل لعليّ بن أبي طالب: إنَّ قاتِلَ الزُّبَيرِ بالبابِ، فقال عليٌّ: ليَهنِكَ قاتلَ ابن صفيَّة النارُ، سمعتُ رسولُ الله ﷺ يقول: "لكل نبيٍّ حَوَاريٌّ، وإنَّ حَوَارِيَّ الزُّبيرُ" (1).
حافظ طلحہ بابر
زر بن حبیش سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ سیدنا زبیر کا قاتل دروازے پر ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی آگ کی خوشخبری دے دو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور بے شک میرا حواری زبیر ہے۔““
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5678
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 5678] [ترقيم الشركة 5625]
حدثنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا أبو جعفر الحَضْرمي، حدثنا حمزة بن عَوْن المَسعُودي، حدثنا محمد بن القاسم الأسَدي، حدثنا سفيانُ الثَّوْري وشَريكٌ، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن زرِّ بن حُبيش، قال: كنت جالسًا عند عليٍّ، فأُتي برأس الزُّبير ومعه قاتلُه، فقال عليٌّ: بشِّرْ قاتلَ ابن صفيّةَ بالنار، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لكلُّ نبيٍّ حَوارِيّ، وإنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَير" (1). هذه الأحاديثُ صحيحةٌ عن أمير المؤمنين عليٍّ، وإن لم يُخرجاها بهذه الأسانيدِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5580 - هذه أحاديث صحاح
حافظ طلحہ بابر
زر بن حبیش سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا اور ان کا قاتل بھی ان کے ساتھ تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی آگ کی خوشخبری دے دو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور بے شک میرا حواری زبیر ہے۔““
یہ احادیث امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہیں، اگرچہ شیخین نے ان اسناد کے ساتھ انہیں روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5679
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل محمد بن القاسم الأسدي، فهو متروك واتهمه أحمد، لكنه قد تُوبع عليه عن سفيان الثوري وحده - دون قصة الرأس - عند أحمد في "فضائل الصحابة" (1273)، وهذا الحديث لم يُروَ وعن شريك إلّا من طريق الأسدي.» [ترقيم الرساله 5679] [ترقيم الشركة 5626] [ترقيم العلميه 5580]