کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما رجب سن 36 ہجری میں شہید ہوئے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران بن خالد، قال: سمعت الفضْل بن دُكين يقول: قُتل طلحةُ والزُّبير بن العَوذام في رجب سنة ست وثلاثين.
حافظ طلحہ بابر
فضل بن دکین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما رجب سن 36 ہجری میں شہید ہوئے۔
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحسَن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين ابن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: خرج الزُّبير يوم الجَمَل، وذلك يوم الخميس لعشرٍ خَلَون من جُمادى الآخِرة من هذه السنة، بعد الوَقْعة على فَرَس يقال له: ذو الخِمار، منطلقًا نحو المدينة، فقُتل بوادي السِّباع، ودُفِن هناك، وذُكِر عن عُروة بن الزُّبَير أنه قال: قُتل أبي يومَ الجَمَل، وقد زاد على الستين أربعَ سنينَ (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ جنگِ جمل کے دن، جو کہ اس سال 10 جمادی الآخر بروز جمعرات کا دن تھا، معرکے کے بعد ”ذو الخمار“ نامی گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، پس وہ وادیِ سباع میں شہید کیے گئے اور وہیں دفن ہوئے، اور سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد جنگِ جمل کے دن شہید ہوئے اور ان کی عمر ساٹھ سال سے چار سال زائد (یعنی 64 سال) تھی۔
قال ابن عُمر: وسمعتُ مُصعبَ بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبَير يقول: شهد الزُّبَير بن العوَّام بدرًا، وهو ابن سبع وعشرين سنة، وقُتِلَ وهو ابن أربع وستين سنةً (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر کو کہتے ہوئے سنا: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تو ان کی عمر 27 سال تھی، اور جب وہ شہید ہوئے تو ان کی عمر 64 سال تھی۔
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: أخبرنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حَدَّثَنَا عبد الملك بن قُريب الأَصمَعي، قال: سمعتُ عبدَ الله بن عَون يقول: هؤلاء الخِيارُ قُتِلوا قَتْلًا، ثم بكى، فقال: أقبلَ الزُّبَيرُ على قاتلِه وقد ظَفِرَ به، فقال: أذكِّرُك الله، فكَفَّ عنه الزُّبَيرُ، حتَّى فعل ذلك مِرارًا، فلما غَدَرَ بالزبير وضربَه، قال الزُّبَيرُ: قاتَلَكَ اللهُ، تُذكِّرُ بالله ثم تَنْساهُ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5571 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5571 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عون سے روایت ہے، وہ (ان صحابہ کے تذکرے پر) رو پڑے اور کہا: یہ وہ بہترین لوگ تھے جنہیں شہید کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنے قاتل کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ وہ ان پر قابو پا چکا تھا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں“، تو وہ (قاتل) ان سے رک گیا، انہوں نے کئی بار ایسا ہی کیا، لیکن جب اس نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے غداری کی اور ان پر وار کیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تجھے غارت کرے، تو اللہ کا واسطہ دیتا ہے اور پھر اسے خود ہی بھول جاتا ہے۔“
أخبرنا عبد الباقي بن قانِع ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن موسى بن حماد البَرْبَري، حَدَّثَنَا أبو السُّكَين زكريا بن يحيى الطائي، حَدَّثَنَا عمُّ أَبي (4) زَحْرُ بن حِصْن، قال: حدثني جدّي حُمَيد بن مُنهِبٍ، قال: حجَجْتُ في السنة التي قُتل فيها عثمانُ، فصادفْتُ طلحةَ والزبيرَ وعائشةَ بمكةَ، فلما سارُوا إلى البصرة سِرتُ معهم، وسار عليُّ بن أبي طالب إليهم حتَّى التَقَوا، وذلك يومُ الجَمَل، فاقتتلوا قتالًا شديدًا، وأَخذ بخِطَام الجَمَل يومئذ سبعون رجلًا، وذكر الحديثَ بطوله. وقال في آخره: وولّى الزُّبَيرُ مُنهزِمًا، فأدركَه ابن جُرمُوزٍ، وهو رجلٌ من بني تَميمٍ، فقتَلَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حمید بن منہیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اس سال حج کیا جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، میری ملاقات مکہ میں سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے ہوئی، جب وہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ چلا گیا، پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے مقابلے میں آئے یہاں تک کہ دونوں فریقوں کا آمنا سامنا ہوا اور وہ جنگِ جمل کا دن تھا، اس دن فریقین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اور اس روز ستر آدمیوں نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے) اونٹ کی نکیل تھامی، (راوی نے طویل حدیث ذکر کی اور) آخر میں کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ پیٹھ پھیر کر (میدان سے) روانہ ہوئے تو بنو تمیم کے ایک شخص ابن جرموز نے انہیں پا لیا اور انہیں شہید کر دیا۔