کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رازدار تھے
فحدثنا بهذا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدَّثنا الحُسين (2) بن علي بن يزيد الصُّدَائي، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق، قال: عبد الله بن مسعود بن الحارث بن شَمْخ بن مَخزُوم بن كاهِل بن الحارث بن سعد بن هُذَيل، من حُلفاء بني زُهْرة (3). قد خالفهما الواقديُّ في هذا النسَب:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود بن حارث بن شمخ بن مخزوم بن کاہل بن حارث بن سعد بن ہذیل بنو زہرہ کے حلیفوں میں سے تھے۔
كما حدَّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحَسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحُسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر، قال: وعبد الله بن مسعود بن غافِل بن حَبيب بن شَمْخ بن فار بن مخزوم بن صاهِلة بن كاهِل بن الحارث بن تميم بن سعد بن هُذيل بن مُدرِكة، وكان يُكنى بابنه عبد الرحمن: أبا عبد الرحمن، وكان أبوه مسعودُ ابن غافِل حالَفَ عبد الحارث بن زُهرة في الجاهلية، وأسلم عبدُ الله بن مسعود قبل دخول رسول الله ﷺ دار الأرقم، وشهد عبدُ الله بن مسعود عند جميع أهل السير بدرًا وأحُدًا والخندق والمشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وهاجَرَ الهِجرتَين، وكان صاحب سرِّ رسول الله ﷺ ووِسَادِه (1) وسِواكِه، ونَعْلِه وطَهُوره، وكان رجلًا نحيفًا قصيرًا شديدَ الأُدْمة، ومات بالمدينة سنة اثنتين وثلاثين، فَدُفِن بالبَقيع، وكان يومَ توفي - فيما قيل - ابنَ بضعٍ وستين سنةً.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ، ان کی کنیت ان کے بیٹے عبد الرحمن کے نام پر ابو عبد الرحمن تھی، ان کے والد مسعود بن غافل نے جاہلیت میں عبد الحارث بن زہرہ سے حلف کا معاہدہ کیا تھا، عبد اللہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں تشریف لانے سے قبل ہی اسلام لے آئے تھے، تمام سیرت نگاروں کے نزدیک انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت فرمائی، انہوں نے دو ہجرتیں کیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے راز دان اور آپ کے تکیے، مسواک، جوتے اور وضو کے پانی کے نگران تھے، وہ دبلے پتلے، پستہ قد اور گہرے گندمی رنگ کے حامل تھے، ان کی وفات سن 32 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا، وفات کے وقت ان کی عمر ساٹھ سال سے کچھ اوپر بتائی جاتی ہے۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير قال: مات عبد الله بن مسعود بالمدينة سنة اثنتين وثلاثين حين قُتل عثمان، وكان أوصى إلى الزُّبير بن العوام، فصلَّى عليه، وقد قيل: إنَّ عمار بن ياسر صلّى عليه، ودُفن بالبقيع ليلًا، وهو ابن بضع وستين سنة.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبد اللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں سن 32 ہجری میں ہوئی جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا وقت قریب تھا، انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی تھی چنانچہ انہوں نے ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، انہیں رات کے وقت جنت البقیع میں دفن کیا گیا اور اس وقت ان کی عمر ساٹھ سال سے کچھ اوپر تھی۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدَّثنا أبو كُريب، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، عن سُليمان بن أبي سُليمان، عن أبي هاشم، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله بن مسعود: أنَّ النبي: النبي ﷺ كناه أبا عبد الرحمن ولم يُولَد له (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی کنیت ”ابو عبد الرحمن“ رکھی تھی حالانکہ اس وقت ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔
حدثني علي بن حَمْشاذَ العدل، حدَّثنا موسى بن هارون، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، عن أبيه، قال: أمُّ عبد الله بن مسعودٍ: أمُّ عبدٍ بنت عبد بن الحارث بن زُهرة (1).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبد اللہ زبیری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی والدہ ام عبد بنت عبد بن حارث بن زہرہ تھیں۔
سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد يقول: سمعت يحيى بن معين يقول: كنيةُ عبد الله بن مسعود أبو عبد الرحمن (2).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی۔
وحدثنا أبو العباس، حدَّثنا سعيد بن عثمان التَّنُوخِي، حدَّثنا الخَصِيب بن ناصِح، حدَّثنا سليمان بن أبي سليمان القافلائي، عن أبي هاشم، عن إبراهيم النَّخَعي: أنَّ ابن مسعود كنَّى علقمة أبا شِبْل قبل أن يولد له، قال: فسُئل، فحدَّث أنَّ علقمة حدَّثه عن عبد الله بن مسعود: أنَّ رسول الله ﷺ كناه أبا عبد الرحمن قبل أن يُولَد له (3).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کی کنیت ”ابو شبل“ رکھی تھی جبکہ ابھی ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ علقمہ نے انہیں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی کنیت ”ابو عبد الرحمن“ ان کے ہاں اولاد پیدا ہونے سے پہلے ہی رکھ دی تھی۔