حدیث نمبر: 5446
كما حدَّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحَسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحُسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر، قال: وعبد الله بن مسعود بن غافِل بن حَبيب بن شَمْخ بن فار بن مخزوم بن صاهِلة بن كاهِل بن الحارث بن تميم بن سعد بن هُذيل بن مُدرِكة، وكان يُكنى بابنه عبد الرحمن: أبا عبد الرحمن، وكان أبوه مسعودُ ابن غافِل حالَفَ عبد الحارث بن زُهرة في الجاهلية، وأسلم عبدُ الله بن مسعود قبل دخول رسول الله ﷺ دار الأرقم، وشهد عبدُ الله بن مسعود عند جميع أهل السير بدرًا وأحُدًا والخندق والمشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وهاجَرَ الهِجرتَين، وكان صاحب سرِّ رسول الله ﷺ ووِسَادِه (1) وسِواكِه، ونَعْلِه وطَهُوره، وكان رجلًا نحيفًا قصيرًا شديدَ الأُدْمة، ومات بالمدينة سنة اثنتين وثلاثين، فَدُفِن بالبَقيع، وكان يومَ توفي - فيما قيل - ابنَ بضعٍ وستين سنةً.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ، ان کی کنیت ان کے بیٹے عبد الرحمن کے نام پر ابو عبد الرحمن تھی، ان کے والد مسعود بن غافل نے جاہلیت میں عبد الحارث بن زہرہ سے حلف کا معاہدہ کیا تھا، عبد اللہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں تشریف لانے سے قبل ہی اسلام لے آئے تھے، تمام سیرت نگاروں کے نزدیک انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت فرمائی، انہوں نے دو ہجرتیں کیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے راز دان اور آپ کے تکیے، مسواک، جوتے اور وضو کے پانی کے نگران تھے، وہ دبلے پتلے، پستہ قد اور گہرے گندمی رنگ کے حامل تھے، ان کی وفات سن 32 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا، وفات کے وقت ان کی عمر ساٹھ سال سے کچھ اوپر بتائی جاتی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5446
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5446] [ترقيم الشركة 5402]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) جاء في نسخنا الخطية بدلًا من وِساده كلمة سواده - بكسر السين - معطوفة على السِّرّ، مع أن السِّواد هو السَّرُّ نفسُه، فيلزم منه التكرار هنا، والصواب ما أثبتنا، وهو كذلك في رواية ابن سعد في "الطبقات" 3/ 141 عن محمد بن عمر الواقدي. والله تعالى أعلم. والوِساد: الفِراش.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "وسادہ" (تکیہ/بستر) کی جگہ "سِوادہ" (سین کے کسرہ کے ساتھ) لکھا ہے جو کہ "السِر" (راز) پر معطوف ہے، حالانکہ "سِواد" کا مطلب بھی "سِر" (راز) ہی ہوتا ہے، تو اس سے تکرار لازم آئے گا۔ درست وہی ہے جو ہم نے متن میں ثابت کیا ہے (یعنی وسادہ)۔ ابن سعد کی "الطبقات" (3/ 141) میں محمد بن عمر الواقدی کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ (عربی لغت میں) "الوساد" کا مطلب بستر/تکیہ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5446 سے ماخوذ ہے۔