کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدَّثنا محمد بن المُؤمَّل، حدَّثنا الفضل بن محمد، حدَّثنا أحمد بن حنبل، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، قال: مات عبدُ الرحمن بن عوف لِتسعٍ من سِنيِّ عثمان، وصلَّى عليه عثمانُ، وكان قد بلغ خمسًا وسبعين سنةً (3).
حافظ طلحہ بابر
یعقوب بن ابراہیم بن سعد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے نویں سال ہوئی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس وقت ان کی عمر پچھتر سال تھی۔
حدَّثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحُسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، سمعت إبراهيم بن قارِظٍ يقول: سمعتُ عليًّا يقول حين مات عبدُ الرحمن بن عوف: أدركتَ صَفْوَها، وسَبَقتَ رَنَقَها (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت فرمایا: ”تم نے اس (دنیا) کی پاکیزگی پا لی اور اس کی کدورتوں سے پہلے (رحلت کر کے) سبقت لے گئے۔“
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا موسى بن زكريا، حدَّثنا خليفة بن خَيّاط، فذكر هذا النَّسب، وزاد: وكان عبد الرحمن يُكنى أبا محمد، وكان اسمه في الجاهلية: عبدَ الكعبة، فسمّاهُ رسول الله ﷺ عبدَ الرحمن (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5335 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5335 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط نے مذکورہ بالا نسب ہی بیان کیا ہے اور یہ اضافہ فرمایا کہ عبد الرحمن کی کنیت ابو محمد تھی، جاہلیت میں ان کا نام عبد الکعبہ تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔
فأخبرَنَاه الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، قال: أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا محمد بن أبي نُعيم الواسطي، حدَّثنا إبراهيم بن سعد، قال: حدثني أبي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ عمرٍو، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5336 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5336 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جاہلیت میں میرا نام عبد عمرو تھا تو رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبد الرحمن رکھ دیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر، حدَّثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدَّثنا عبد الله بن مَسلَمة فيما قرأ على مالك، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال رسولُ الله ﷺ لعبد الرحمن: "كيف صَنَعتَ يا أبا محمدٍ في استلام الرُّكْن؟ " يعني الحَجَر الأسود، فقال عبد الرحمن: استلمتُ وتَركتُ، فقال رسول الله ﷺ: "أصبْتَ" (2) لست أشكُ في لُقيّ عُرُوةَ بن الزُّبَير عبدَ الرحمن بن عَوف، فإن كان سمع منه هذا الحديثَ فإنه صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے ابو محمد! تم نے رکن (حجرِ اسود) کے استلام کے وقت کیا طریقہ اختیار کیا؟“ عبد الرحمن نے عرض کی: ”میں نے (موقع ملنے پر) استلام کیا اور (اژدھام کی صورت میں) اسے چھوڑ دیا“، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے درست کیا۔“
مجھے عروہ بن زبیر کی سیدنا عبد الرحمن بن عوف سے ملاقات میں کوئی شک نہیں، پس اگر انہوں نے یہ حدیث ان سے سنی ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
مجھے عروہ بن زبیر کی سیدنا عبد الرحمن بن عوف سے ملاقات میں کوئی شک نہیں، پس اگر انہوں نے یہ حدیث ان سے سنی ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: حدثني أبي، حدَّثنا محمد بن جعفر، حدَّثنا شُعبة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبيه، قال: لقد رأيتُ سعدَ بن أبي وقَّاص في جنازة عبد الرحمن بن عوف، قال: اذهب ابن عَوفٍ ببُطَينِك، لم يَتَغَضغَضُ منها شيءٌ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5338 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5338 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابراہیم بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جنازے میں دیکھا، انہوں نے (رشک و محبت سے) فرمایا: ”اے ابنِ عوف! آپ چلے جائیے اس حال میں کہ آپ کا دامن نیکیوں سے بھرا ہوا ہے اور ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی۔“
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا هارون بن سليمان، حدَّثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن مالك، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ قال لعبد الرحمن: "كيف صنعتَ يا أبا محمدٍ في استِلامِ الحَجَر؟ " قال: استلمتُ وتَركتُ، قال: "أصبتَ يا أبا محمدٍ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5339 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5339 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے ابو محمد! تم نے حجرِ اسود کے استلام کے وقت کیا طریقہ اختیار کیا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے موقع ملنے پر استلام کیا اور اژدھام کی صورت میں اسے چھوڑ دیا“، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو محمد! تم نے درست کیا۔“
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات عبدُ الرحمن بن عوف، ويُكنى أبا محمد، سنة اثنتين وثلاثين، وهو ابن خمس وسبعين سنة (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبد اللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابو محمد تھی، سن 32 ہجری میں وفات پا گئے اور اس وقت ان کی عمر 75 برس تھی۔