المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5422
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا هارون بن سليمان، حدَّثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن مالك، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ قال لعبد الرحمن: "كيف صنعتَ يا أبا محمدٍ في استِلامِ الحَجَر؟ " قال: استلمتُ وتَركتُ، قال: "أصبتَ يا أبا محمدٍ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5339 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهحافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے ابو محمد! تم نے حجرِ اسود کے استلام کے وقت کیا طریقہ اختیار کیا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے موقع ملنے پر استلام کیا اور اژدھام کی صورت میں اسے چھوڑ دیا“، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو محمد! تم نے درست کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على هشام بن عروة في وصله وإرساله كما تقدم برقم (5420).
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں ہشام بن عروہ پر اس کے وصل (متصل ہونے) اور ارسال (منقطع ہونے) میں اختلاف ہوا ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (5420) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں ہشام بن عروہ پر اس کے وصل (متصل ہونے) اور ارسال (منقطع ہونے) میں اختلاف ہوا ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (5420) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5422 سے ماخوذ ہے۔