حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا عبد الله بن قَحْطَبة، حدثنا العباس بن عبد العظيم، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، سمعت بشّار بن أبي سَيف يُحدِّث عن الوليد بن عبد الرحمن، عن عِياض بن غُطَيف، قال: دخلْنا على أبي عُبيدة بن الجرَّاح نعودُه وامرأتُه تُحيفَة جالسة عند رأسِه، وهو مُقبِلٌ بوجهِه على الجِدار، فقلنا لها: كيف باتَ أبو عُبيدة الليلةَ؟ قالت: باتَ بأجرٍ، فأقبل علينا بوجهِه فقال: إني لم أبِتْ بأجرٍ، ثم قال: ألا تَسألوني عما قلتُ؟ فقلنا: ما أعجَبَنا ما قلتَ فنسألَك عنه، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن أنفَقَ نفقةً في سبيلِ الله فبسبع مئةٍ، ومَن أنفَقَ على نفسِه وأهلِه، أو عادَ مريضًا، أو مازَ أذًى، فالحسنةُ بعَشْر أمثالِها، والصومُ جُنَّةٌ ما لم يَخرِقْها، ومن ابتلاهُ اللهُ بِبَلاءٍ فِي جَسَدِه فهو له حِطّةٌ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5153 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5153 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عیاض بن غطیف سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے، ان کی اہلیہ تحیفہ ان کے سرہانے بیٹھی تھیں جبکہ وہ دیوار کی طرف چہرہ کیے لیٹے ہوئے تھے، ہم نے ان سے پوچھا: ابو عبیدہ نے رات کیسی گزاری؟ انہوں نے کہا: انہوں نے اجر پاتے ہوئے رات گزاری، تب ابو عبیدہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں نے اجر پاتے ہوئے رات نہیں گزاری“، پھر فرمایا: ”تم نے مجھ سے اس بات کے متعلق کیوں نہیں پوچھا جو میں نے کہی؟“ ہم نے کہا: ہمیں آپ کی بات عجیب لگی (اسی لیے خاموش رہے)، تب انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کی راہ میں کوئی خرچ کیا تو اس کا اجر سات سو گنا ہے، اور جس نے اپنی ذات یا اہل و عیال پر خرچ کیا یا کسی مریض کی عیادت کی یا (راستے سے) کوئی تکلیف دہ چیز ہٹائی تو ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے، اور روزہ (گناہوں اور آگ سے بچاؤ کے لیے) ڈھال ہے جب تک کہ اسے پھاڑ نہ دیا جائے، اور جس شخص کو اللہ اس کے جسم میں کسی بیماری میں مبتلا کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کے جھڑنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔“
أخبرني خَلَف بن محمد البُخاري، حدثنا محمد بن حُريث، حدثنا عمرو بن علي، سمعت يحيى بن سعيد يقول: مات أبو عُبيدة وهو ابن ثَمانٍ وخمسينَ سنةً (1).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات اٹھاون سال کی عمر میں ہوئی۔
أخبرنا أحمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدّمشقي، حدثنا الوليد بن مُسلم الدّمشقي، عن سعيد بن عبد العزيز، قال: مات أبو عُبيدة الجراح بالأردن سنة ثمانَ عشرةَ، وصلَّى عليه معاذُ بن جَبَل ﵄ (2).
حافظ طلحہ بابر
سعید بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ 18 ہجری میں اردن میں ہوئی اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا أبو أسامة، حدثنا عمر بن حمزة، حدثنا سالم بن عبد الله، أنَّ عبد الله بن عمر أخبرهم، أنَّ عمر بن الخطّاب قال: ما تَعرّضتُ للإمارة، وما أحببتُها، غير (1) أنَّ ناسًا من أهل نَجْرانَ أتَوْا رسولَ الله ﷺ، فاشتَكَوا إليه عامِلَهم، فقال: "لأبعثَنَّ عليكم الأمينَ"، قال عمرُ: فكنتُ فيمن تَطاوَل رجاءَ أن يَبعثَني، فبعثَ أبا عُبيدةَ (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5156 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5156 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کبھی امارت (عہدے) کی خواہش نہیں کی اور نہ ہی اسے پسند کیا، سوائے اس ایک موقع کے کہ نجران کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اپنے عامل (گورنر) کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم پر ایک ایسے شخص کو (حاکم بنا کر) بھیجوں گا جو امین ہے“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں (بڑھ بڑھ کر) سامنے ہونے لگا اس امید میں کہ آپ ﷺ مجھے بھیجیں گے، لیکن آپ ﷺ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا حمزة بن العباس، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الهيثَم بن جَميل، حدثنا المُبارك بن فَضَالة، عن الحسن، قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من أصحابي أحدٌ إلَّا ولو شئتُ لأخذتُ عليه في بعضِ خُلُقِه، غيرَ أبي عُبيدة بن الجَرَّاح" (1). هذا مرسلٌ غريب، ورواتُه ثقاتٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5157 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5157 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
امام حسن بصری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ اگر میں چاہتا تو اس کے کسی نہ کسی اخلاق پر (گرفت یا تبصرہ) کر سکتا تھا، سوائے ابو عبیدہ بن جراح کے۔“
یہ روایت مرسل اور غریب ہے، البتہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔
یہ روایت مرسل اور غریب ہے، البتہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔
أخبرني علي بن المؤمَّل، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن محمد العُثماني، حدثنا عمرو بن خالد، حدثني محمد بن يوسف بن ثابت، عن سهل بن سعد، قال: قال أبو بكر الصِّديق لأبي عُبيدة لما وجَّهَه إلى الشام: إني أُحب أن تَعلَمَ كرامتَك علَيَّ ومنزلتَك مِنّي، والذي نفسي بيدِه ما على الأرضِ رجلٌ من المهاجرين ولا غيرِهم أعدِلُه بك، ولا هذا - يعني عُمرَ - وله من المنزلةِ عندي إلَّا دون ما لك (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5158 - سنده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5158 - سنده مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرتے وقت فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی وہ عزت و منزلت جان لو جو میرے دل میں تمہارے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، روئے زمین پر مہاجرین یا کسی اور میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جسے میں تمہارے برابر قرار دوں، حتیٰ کہ یہ (عمر) بھی نہیں، ان کا مقام میرے نزدیک تمہارے مقام سے کم ہی ہے۔