کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے اگلے دانتوں میں خلا تھا
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عيسى بن طلحة، عن عائشة، قالت: حدثَني أبو بكر، قال: كنتُ في أولِ مَن فاءَ يومَ أُحُدٍ وبين يَدَي رسولِ الله ﷺ رجلٌ يُقاتِل عنه، وأُراه قال: ويَحميهِ (2)، قال: فقلت: كُن طَلحةَ حين فاتَني ما فاتَني، قال: وبيني وبين المَشرق رجلٌ لا أعرفُه، أنا أقربُ إلى رسولِ الله ﷺ منه، وهو يَخطِفُ السَّعِيَ خَطْفًا لا أَخطِفُه، فدَفَعْنا إلى رسول الله ﷺ جميعًا، فإذا أبو عبيدة بن الجرّاح، فقال لنا رسول الله ﷺ: "عليكم بصاحبِكم" يريد طلحةَ وقد نُزِفَ، فلم نَنظُر إليه، فأقبلْنا على رسول الله ﷺ فأرادني (3) أبو عبيدة وطلب إليَّ، فلم يَزَلْ حتى تركتُه، وكان على حَلْقَتِه قد نَشِبَت، وكَرِه أن يُزَعْزِعَها بيدِه فيشتكيَ (1) النبيُّ ﷺ، فأزَمَّ عليه بثَنيّتِه، ونَهَضَ ونَزَعها، وابتَدَرَتْ ثَنيَّتُه، فطلب إليّ ولم يَدَعْني حتى تركتُه، فأكَارَ (2) على الأخرى، فصنع مثلَ ذلك، ونَزَعَها وابتَدَرَت، فكان أبو عبيدة أهْتَمَ الثَّنَايا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5159 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5159 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”میں غزوہ احد کے دن ان لوگوں میں سے تھا جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹے تھے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص آپ ﷺ کی طرف سے لڑ رہا ہے اور آپ ﷺ کی حفاظت کر رہا ہے، میں نے جی میں کہا کہ کاش یہ طلحہ ہوں کیونکہ مجھے پہلے جو موقع ملنا تھا وہ ہاتھ سے نکل چکا تھا، میرے اور مشرق کی سمت کے درمیان ایک شخص تھا جسے میں پہچان نہ سکا، میں اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے زیادہ قریب تھا لیکن وہ اتنی تیزی سے دوڑ رہا تھا کہ میں اس کی طرح نہ دوڑ سکا، پھر ہم دونوں ایک ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ ابو عبیدہ بن جراح تھے، تب رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی (طلحہ) کو سنبھالو“، آپ ﷺ کا اشارہ سیدنا طلحہ کی طرف تھا جن کا بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا، لیکن ہم نے ان کی طرف توجہ نہ دی بلکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھے، تو ابو عبیدہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ وہ لوہے کی کڑیاں نکالیں گے اور مسلسل اصرار کیا یہاں تک کہ میں نے انہیں موقع دے دیا، رسول اللہ ﷺ کے رخسار میں خود کی کڑی دھنس گئی تھی، انہوں نے اسے ہاتھ سے ہلانے کو ناپسند کیا کہ کہیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف نہ ہو، اس لیے انہوں نے اپنے سامنے کے دانت سے کڑی کو مضبوطی سے جکڑا، اسے کھینچا اور نکال لیا، اس عمل میں ان کا اپنا سامنے کا دانت جڑ سے نکل گیا، پھر انہوں نے مجھ سے دوبارہ اصرار کیا اور مجھے نہ چھوڑا یہاں تک کہ میں نے انہیں موقع دے دیا، تو انہوں نے دوسری کڑی پر بھی اسی طرح جانفشانی سے کام کیا، اسے نکالا اور ان کا دوسرا دانت بھی نکل گیا، چنانچہ ابو عبیدہ کے سامنے کے دانت گر گئے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدَّثنا بشَرْح هذا الحديثِ أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا محمد بن صالح، عن يزيدَ بن رُومانَ، قال: أسلمَ أبو عُبيدة بنُ الجرّاح مع عثمانَ بن مَظْعُون وعبدِ الرحمن بن عَوف وأصحابِهم قبلَ دخول رسولِ الله ﷺ دار الأرقَم، وهاجَر أبو عُبيدة إلى أرضِ الحَبَشة الهِجرةَ الثانيةَ، وشهد أبو عُبيدة بدرًا وأُحُدًا، وثَبَت يوم أُحدٍ مع رسول الله ﷺ حين انهزمَ الناسُ، وهو الذي نَزَع عن أبي بكر الصِّدّيق (4) بثنيَّتِه حَلْقَتَي مِغفَرِ رسولِ الله ﷺ اللتَين كانتا دخَلَتا في وَجنَتَيه يوم أُحد، وذلك أنَّه ﷺ رُمي يومئذٍ في وجهه حتى دخلت في وَجْنتَيهِ حَلْقتانِ من المِغْفَر، فسقَطَتْ ثَنيّتا أبي عُبيدة بنَزْعه ذلك، فكان أبو عُبيدة أَثْرمَ (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5160 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5160 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
یزید بن رومان سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عثمان بن مظعون، عبد الرحمن بن عوف اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، ابو عبیدہ نے سرزمین حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی، وہ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور احد کے دن جب لوگ منتشر ہو گئے تھے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، یہ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اپنے دانتوں کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کے خود (لوہے کی ٹوپی) کی وہ دو کڑیاں نکالی تھیں جو احد کے دن آپ ﷺ کے رخساروں میں پیوست ہو گئی تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دن آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ضرب آئی تھی جس سے خود کی دو کڑیاں رخساروں میں دھنس گئی تھیں، ان کڑیوں کو نکالنے کے دوران ابو عبیدہ کے سامنے کے دانت گر گئے تھے جس کی وجہ سے وہ «أَثْرَم» ”ٹوٹے ہوئے دانتوں والے“ ہو گئے تھے۔