کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی وضع قطع کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا أبو أيوب سليمان بن داود الشاذَكُوني، حدثني محمد بن عمر الواقدي، حدثنا ثَوْر بن يَزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن مالك بن يُخامِرَ: أنه وَصَفَ أبا عُبيدة، فقال: رجلٌ نحيفٌ مَعْروقُ الوجه، خَفِيف اللحية، طُوالٌ أجْنَى (3) أثرمَ الثَّنِيّتَين (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5149 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5149 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مالک بن یخامر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: وہ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے، ان کا چہرہ ہڈیوں والا (گوشت سے خالی) تھا، داڑھی ہلکی تھی، قد لمبا تھا، تھوڑا سا آگے کی طرف جھکے ہوئے تھے اور (غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور سے کڑیاں نکالنے کی وجہ سے) ان کے سامنے کے دو دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا أبو مُسهِر عبد الأعلى بن مُسهِر، حدثنا يحيى بن حمزة، عن عُروة بن رُوَيم، قال: توفي أبو عُبيدة بن الجَرَّاح بفِحْل من الأردن سنة ثَمانَ عشرةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
عروہ بن رویم سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ 18 ہجری میں اردن کے مقام فحل میں ہوئی۔
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُروة، قال: وممَّن شهد بدرًا من بني الحارث بن فِهْر: أبو عُبيدة بن الجرَّاح وهو ابن إحدى وأربعين سنةً (2).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ بنو حارث بن فہر میں سے جن لوگوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی ان میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اور اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی۔
فحدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا ضَمْرة بن ربيعة، عن عبد الله بن شَوذَب، قال: جعل أبو أبي عُبيدة بن الجَرَّاح ينَصِبُ الأَلَّ لأبي عُبيدة يومَ بدرٍ، وجعل أبو عُبيدة يَحِيدُ عنه، فلما أكثرَ الجِراحَ قَصَدَه أبو عُبيدة فقَتَله، فأنزل اللهُ تعالى فيه هذه الآيةَ حين قَتَل أباه: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ﴾ الآية إلى آخرها [المجادلة: 22] (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5152 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5152 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن شوذب سے روایت ہے کہ غزوہ بدر کے دن سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے والد ان پر (حملہ کرنے کے لیے) مسلسل تاک لگائے ہوئے تھے، جبکہ ابو عبیدہ ان کے سامنے آنے سے بچ رہے تھے، لیکن جب ان کے والد نے (حملے میں) بہت زیادہ اصرار کیا تو ابو عبیدہ نے ان کا رخ کیا اور انہیں قتل کر دیا، چنانچہ جب انہوں نے اپنے (مشرک) باپ کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ﴾ [سورة المجادلة: 22] ”آپ ایسی کسی قوم کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں“ (آخر تک)۔