المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا الرَّجُلُ باب: روزہ ڈھال ہے، جب تک آدمی اسے پھاڑ نہ دے
حدیث نمبر: 5239
أخبرني علي بن المؤمَّل، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن محمد العُثماني، حدثنا عمرو بن خالد، حدثني محمد بن يوسف بن ثابت، عن سهل بن سعد، قال: قال أبو بكر الصِّديق لأبي عُبيدة لما وجَّهَه إلى الشام: إني أُحب أن تَعلَمَ كرامتَك علَيَّ ومنزلتَك مِنّي، والذي نفسي بيدِه ما على الأرضِ رجلٌ من المهاجرين ولا غيرِهم أعدِلُه بك، ولا هذا - يعني عُمرَ - وله من المنزلةِ عندي إلَّا دون ما لك (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5158 - سنده مظلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرتے وقت فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی وہ عزت و منزلت جان لو جو میرے دل میں تمہارے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، روئے زمین پر مہاجرین یا کسی اور میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جسے میں تمہارے برابر قرار دوں، حتیٰ کہ یہ (عمر) بھی نہیں، ان کا مقام میرے نزدیک تمہارے مقام سے کم ہی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة محمد بن يوسف بن ثابت وعمرو بن خالد: وهو ابن عاصم بن عمرو بن عثمان، كما وقع مُسمًّى عند الخبر المتقدم برقم (5229)، وقال الذهبي في "تلخيصه": سنده مظلم.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ "محمد بن یوسف بن ثابت" مجہول ہے، اور "عمرو بن خالد" (جو ابن عاصم بن عمرو بن عثمان ہیں، جیسا کہ خبر 5229 میں نام آیا ہے) کا حال بھی واضح نہیں۔ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا: "اس کی سند اندھیر (مظلم) ہے"۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ "محمد بن یوسف بن ثابت" مجہول ہے، اور "عمرو بن خالد" (جو ابن عاصم بن عمرو بن عثمان ہیں، جیسا کہ خبر 5229 میں نام آیا ہے) کا حال بھی واضح نہیں۔ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا: "اس کی سند اندھیر (مظلم) ہے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5239 سے ماخوذ ہے۔