کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب کہ آپ کی عترت میں سے ایک شخص شہید ہوگا، چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا بكر بن عيّاش، حدثنا يزيد بن أبي زياد عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: لما قُتل حمزةُ أقبلتْ صفيةُ تَطلُبُه لا تدري ما صَنَعَ، فلقيَتْ عليًّا والزبيرَ، فقال عليٌّ للزبير: اذكُر لأُمّكَ، وقال الزُّبَير لعليٍّ: لا، اذكُر أنتَ لعمّتِك، قالت ما فعلَ حمزةُ؟ فأرَيَاها أنهما لا يَدرِيان، فجاءتِ النبيَّ ﷺ، فقال: "إني أخافُ على عقلِها" فوضعَ يدَه على صدرِها ودعا، فاسترجَعتْ وبَكَت، ثم جاء فقام عليه وقد مُثِّلَ به، فقال: "لولا جَزَعُ النساءِ لتَركتُه حتى يُحشَر مِن حَواصِل الطَّير وبُطُونِ السِّباع". ثم أمر بالقَتْلى فجعل يُصلِّي عليهم، فيَضعُ تسعةً وحمزةَ، فيكبِّر عليهم سبعَ تكبيراتٍ، ثم يُرفَعُون ويُترَك حمزةُ، ثم يُؤتَى (1) بتسعةٍ، فيُكبِّر عليهم سبعَ تكبيراتٍ، حتى فرَغَ منهم (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4895 - سمعه أبو بكر بن عياش من يزيد قلت ليسا بمعتمدين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4895 - سمعه أبو بكر بن عياش من يزيد قلت ليسا بمعتمدين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا حمزہ شہید ہوئے تو ان کی بہن سیدہ صفیہ انہیں ڈھونڈتی ہوئی آئیں، انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے بھائی کے ساتھ کیا ہوا ہے، راستے میں ان کی ملاقات سیدنا علی اور سیدنا زبیر سے ہوئی، علی نے زبیر سے کہا: ”اپنی والدہ کو بتا دو“، زبیر نے علی سے کہا: ”نہیں، تم اپنی پھوپھی کو بتاؤ“، سیدہ صفیہ نے پوچھا: ”حمزہ کا کیا ہوا؟“ ان دونوں نے لاعلمی ظاہر کی، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کی عقل (صدمے سے) مغلوب نہ ہو جائے“، پس آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور دعا فرمائی، چنانچہ انہوں نے کلمہ استرجاع پڑھا اور روئیں، پھر آپ ﷺ سیدنا حمزہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جبکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عورتوں کے غم کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے اٹھائے جاتے“، پھر آپ ﷺ نے شہداء کے جنازے کا حکم دیا، آپ ﷺ نو شہداء کے ساتھ حمزہ کو رکھتے اور ان پر سات تکبیریں کہتے، پھر ان نو کو اٹھا لیا جاتا اور حمزہ وہیں رہتے، پھر دوسرے نو لائے جاتے اور ان پر بھی سات تکبیریں کہی جاتیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ تمام شہداء سے فارغ ہوئے۔
حدثنا علي بن حَمَشاذَ، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا عبد الواحد بن غِياث، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ رأى فيما يرى النائمُ، قال: "رأيتُ كأني مُردِفٌ كبشًا، وكأنَّ ظُبَةَ سيفي انكسرتْ فأوَّلتُ أن أَقتُل كبشَ القَومِ، وأوَّلتُ أنَّ ظُبَة سيفي رجلٌ من عِتْرَتي". فقُتل حمزةُ، وقَتل رسولُ الله ﷺ طلحةَ، وكان صاحبَ اللِّواء (1) (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا اور فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ جیسے میں ایک مینڈھے پر سوار ہوں اور میری تلوار کی دھار (نوک) ٹوٹ گئی ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ میں دشمن کے سردار کو قتل کروں گا، اور تلوار کی دھار ٹوٹنے کی تعبیر یہ لی کہ میرے خاندان کا ایک مرد (شہید ہوگا)“، چنانچہ سیدنا حمزہ شہید ہوئے اور رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے علمبردار طلحہ کو قتل کیا۔
حدثنا أبو العبّاس، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عمران، عن عبد الله بن جعفر المَخْرَمي (3)، عن أبي عَون مولى المِسوَر، عن المِسور بن مَخرمَة، عن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، قال: تزوّجَ عبد المطّلب هالةَ بنتَ أُهَيب بن عبد مَناف بن زُهْرة، فولَدت حمزةَ وصفيّةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالمطلب نے ہالہ بنت اہب بن عبد مناف سے نکاح کیا، جس سے حمزہ اور صفیہ پیدا ہوئے۔
أخبرني إسماعيل بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لَبيبة (2)، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "والذي نفسي بيدِه، إنه لَمَكتوب عندَه في السماءِ السابعة: حمزةُ بن عبد المطلب أسدُ الله وأسدُ رسوله" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4898 - يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4898 - يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة واه
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! یقیناً ساتویں آسمان پر اللہ کے ہاں یہ لکھا ہوا ہے: حمزہ بن عبدالمطلب اللہ کے شیر اور اس کے رسول کے شیر ہیں۔“
حدثنا جعفر بن الحارث حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد اللَّيثي، سمعت محمد بن كعب القُرَظي، قال: كان حمزةُ بن عبد المطلب يُكنى أبا عُمارة (4). حدثنا الحاكمُ أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاءً في المُحرّم سنة ثلاث وأربع مئةٍ:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حمزہ بن عبدالمطلب کی کنیت ابو عمارہ تھی۔ (حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے یہ حدیث محرم سن 403 ہجری میں املا کروائی)۔
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطَري ببغداد، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو صالح الفرّاء، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن أبي حماد الحَنَفي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل قال: سمعت جابرَ بن عبد الله يقول: فَقَدَ رسولُ الله ﷺ يومَ أُحد حمزةَ حين فاءَ الناسُ من القتال، قال: فقال رجلٌ: رأيتُه عند تلكَ الشجرة وهو يقول: أنا أسدُ اللهِ وأسدُ رسولِه، اللهم إني أبرأُ إليك مما جاءَ به هؤلاءِ - لأبي سفيانَ وأصحابِه - وأعتذِرُ إليك مما صنعَ هؤلاءِ ومِن انهزامِهم، فسارَ رسولُ الله ﷺ نحوَه، فلما رأى جبْهتَه بكي، ولما رأى ما مُثِّل به شَهَقَ، ثم قال: "ألا كُفِّنَ؟ " فقام رجلٌ من الأنصار فرمَى بثوبٍ، قال جابرٌ: فقال رسول الله ﷺ: "سيدُ الشهداء عندَ الله تعالى يومَ القيامةِ حمزةُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4900 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4900 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے غزوہِ احد کے دن جب لوگ قتال سے واپس آئے تو حمزہ کو موجود نہ پایا، راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے بتایا: ”میں نے انہیں اس درخت کے پاس دیکھا تھا جبکہ وہ کہہ رہے تھے: میں اللہ کا شیر اور اس کے رسول کا شیر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جو یہ لائے ہیں - یعنی ابوسفیان اور اس کے ساتھی - اور ان (مسلمانوں) کے کیے اور ان کے فرار ہونے پر تیرے حضور معذرت خواہ ہوں“، پس رسول اللہ ﷺ ان کی طرف چلے، جب آپ ﷺ نے ان کی پیشانی دیکھی تو رو پڑے اور جب ان کا مثلہ (اعضاء کٹنا) دیکھا تو آپ ﷺ کی ہچکی بندھ گئی، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا ان کے لیے کفن نہیں ہے؟“ تو انصار کے ایک شخص نے ایک کپڑا ان پر ڈال دیا، جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام شہداء کے سردار حمزہ ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔