المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
رُؤْيَا النَّبِيِّ شَهَادَةَ رَجُلٍ مِنْ عِتْرَتِهِ فَاسْتُشْهِدَ حَمْزَةُ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب کہ آپ کی عترت میں سے ایک شخص شہید ہوگا، چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطَري ببغداد، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو صالح الفرّاء، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن أبي حماد الحَنَفي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل قال: سمعت جابرَ بن عبد الله يقول: فَقَدَ رسولُ الله ﷺ يومَ أُحد حمزةَ حين فاءَ الناسُ من القتال، قال: فقال رجلٌ: رأيتُه عند تلكَ الشجرة وهو يقول: أنا أسدُ اللهِ وأسدُ رسولِه، اللهم إني أبرأُ إليك مما جاءَ به هؤلاءِ - لأبي سفيانَ وأصحابِه - وأعتذِرُ إليك مما صنعَ هؤلاءِ ومِن انهزامِهم، فسارَ رسولُ الله ﷺ نحوَه، فلما رأى جبْهتَه بكي، ولما رأى ما مُثِّل به شَهَقَ، ثم قال: "ألا كُفِّنَ؟ " فقام رجلٌ من الأنصار فرمَى بثوبٍ، قال جابرٌ: فقال رسول الله ﷺ: "سيدُ الشهداء عندَ الله تعالى يومَ القيامةِ حمزةُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4900 - صحيحسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے غزوہِ احد کے دن جب لوگ قتال سے واپس آئے تو حمزہ کو موجود نہ پایا، راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے بتایا: ”میں نے انہیں اس درخت کے پاس دیکھا تھا جبکہ وہ کہہ رہے تھے: میں اللہ کا شیر اور اس کے رسول کا شیر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جو یہ لائے ہیں - یعنی ابوسفیان اور اس کے ساتھی - اور ان (مسلمانوں) کے کیے اور ان کے فرار ہونے پر تیرے حضور معذرت خواہ ہوں“، پس رسول اللہ ﷺ ان کی طرف چلے، جب آپ ﷺ نے ان کی پیشانی دیکھی تو رو پڑے اور جب ان کا مثلہ (اعضاء کٹنا) دیکھا تو آپ ﷺ کی ہچکی بندھ گئی، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا ان کے لیے کفن نہیں ہے؟“ تو انصار کے ایک شخص نے ایک کپڑا ان پر ڈال دیا، جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام شہداء کے سردار حمزہ ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ابو حماد الحنفی (مغفل بن صدقہ) اور عبداللہ بن محمد بن عقیل کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
متابعات و شواہد: البتہ حدیث کے بعض الفاظ پر ان کی متابعت کی گئی ہے جیسا کہ نمبر (2589) میں بیان ہوا، وہاں یہ حدیث عثمان بن سعید الدارمی کے طریق سے محبوب بن موسیٰ سے گزری تھی، اور وہی (محبوب) "ابو صالح الفراء" ہیں۔
وانظر ما تقدَّم برقم (4936).
حوالہ / مصدر: اور دیکھیں جو نمبر (4936) پر گزر چکا۔