کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد کے دن چون برس کی عمر میں شہید ہوئے
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أبو أسامة، حدثنا أسامة بن زيد، عن نافع عن ابن عمر، قال: رجعَ رسول الله ﷺ يوم أُحدٍ، فسمع نساءَ بني عبد الأشْهَلِ يَبكينَ على هَلْكاهُنَّ، فقال: "لكنَّ حمزةَ لا بواكيَ له" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنگِ احد سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بنو عبد الاشہل کی عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والی نہیں ہے۔“
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُزوة، في تسمية من شهد بدرًا: رسول الله ﷺ، حمزةُ بن عبد المطلب، وقُتِلَ يومَ أُحُدٍ وهو ابن أربعٍ وخَمسين (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4892 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4892 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ جنگِ بدر میں شریک ہونے والوں میں رسول اللہ ﷺ اور حمزہ بن عبدالمطلب شامل تھے، اور حمزہ جنگِ احد میں شہید ہوئے جبکہ ان کی عمر چون سال تھی۔
حدثنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الحضرمي، حدثنا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حدثنا عبد الله بن نُمير، عن أبي حمّاد الحَنَفي، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل عن جابر، قال: لما جَرَّدَ رسول الله ﷺ حمزةَ بكي، فلما رأى مِثالَه شَهَقَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4893 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4893 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ کے جسدِ مبارک سے کپڑا ہٹایا تو آپ ﷺ رو پڑے، اور جب آپ ﷺ نے ان کے جسم کا یہ حال (مثلہ کیا ہوا) دیکھا تو آپ ﷺ کی ہچکی بندھ گئی۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا خالد بن خِدَاش، حدثنا صالح المُرِّي، عن سليمان التَّيمي، عن أبي عثمان النَّهدي عن أبي هريرة: أنَّ النبيَّ ﷺ يومَ أحد نظر إلى حمزةَ وقد قُتل ومُثَّل به، فرأى منظرًا لم يَرَ منظرًا قطُّ أوجعَ لقِلبْه منه ولا أوجَلَ، فقال: "رحمةُ الله عليك، قد كنتَ وَصُولًا للرَّحِم، فَعولًا للخيرات، ولولا حُزنُ مَن بَعدَك عليك لَسَرَّني أن أدَعَك حتى تُحْيا من أفواجٍ شتّى"، ثم حَلَف وهو واقفٌ مكانَه: "والله لأُمثِّلنَّ بسبعينَ منهم مكانك" فنزلَ القرآنُ وهو واقفٌ في مكانِه لم يَبْرَح: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النحل: 126]، حتى ختمَ السورةَ، وكَفَّر رسولُ الله ﷺ وأمسكَ عما أرادَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4894 - صالح واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4894 - صالح واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جنگِ احد کے دن سیدنا حمزہ کو اس حال میں دیکھا کہ وہ شہید کیے جا چکے تھے اور ان کے جسم کا مثلہ کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے ایسا دردناک منظر دیکھا کہ اس سے پہلے کبھی آپ ﷺ کے دل کو اتنا دکھ اور صدمہ نہیں پہنچا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر اللہ کی رحمت ہو، تم صلہ رحمی کرنے والے اور بہت زیادہ نیک کام کرنے والے تھے، اگر تمہارے بعد والوں کے غم کا ڈر نہ ہوتا تو مجھے یہ بات خوش کرتی کہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ دیتا یہاں تک کہ تمہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے اٹھایا جاتا“، پھر آپ ﷺ نے اسی جگہ کھڑے ہو کر قسم کھائی: ”اللہ کی قسم! میں تمہارے بدلے ان کے ستر آدمیوں کا اسی طرح مثلہ کروں گا“، پس آپ ﷺ ابھی وہیں کھڑے تھے کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [سورة النحل: 126] یہاں تک کہ سورت ختم ہوئی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور اس ارادے سے رک گئے۔