کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزيٰ رضی اللہ عنہا ہیں — جنتی عورتوں کی سردار چار ہیں
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن فُضيل عن عُمارة بن القَعْقاع، عن أبي زُرْعة، قال: سمعت أبا هريرةَ يقولَ: أتى جبريلُ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، هذه خديجة قد أتتكَ ومعها إناءٌ فيه إدامٌ - أو طعامٌ أو شرابٌ - فإذا هي أتتكَ فاقرأ عليها السلامَ من ربِّها، وبَشِّرها ببيتٍ في الجنة من قَصَبٍ، لا صَخَبَ فيه ولا نَصَب (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة! فأما قولُه ﷺ: "بَشِّر خديجة" فقد اتفقا على حديث إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الله بن أبي أَوفَى مختصرًا (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة! فأما قولُه ﷺ: "بَشِّر خديجة" فقد اتفقا على حديث إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الله بن أبي أَوفَى مختصرًا (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آپ کے پاس آ رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن - یا کھانا یا مشروب - ہے، پس جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک ایسے گھر کی خوشخبری دیجیے جس میں نہ کوئی شور و غل ہوگا اور نہ ہی کوئی تکلیف۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ خدیجہ کو خوشخبری دینے کے اصل واقعے پر وہ متفق ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ خدیجہ کو خوشخبری دینے کے اصل واقعے پر وہ متفق ہیں۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا داود بن أبي الفُرات، عن عِلْباء بن أحمرَ، عن عِكْرمة عن ابن عبّاس قال: خَطَّ رسول الله ﷺ في الأرض أربعةَ خُطوطٍ، وقال: "أَتَدْرُون ما هذا؟ فقالوا: الله ورسوله أعلمُ، فقال رسولُ الله ﷺ: "أفضلُ نِساءِ أهل الجنة خديجةُ بنت خُويلِدٍ، وفاطمةُ بنت محمدٍ، ومَريمُ بنتُ عِمران، وآسِيةُ امرأةُ (1) فرعونَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: وجدتُ في كتاب أبي بخَطّ يده: حدثنا سعد بن إبراهيم بن سعد ويعقوب بن إبراهيم، قالا: حدثنا أبي، عن صالح، عن ابن شِهَاب، عن عُرْوة، قال: قالت عائشةُ لفاطمةَ بنتِ رسولِ الله ﷺ: ألا أُبَشِّرُكِ؟ إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ: "سيداتُ نِساءِ أهل الجنة أربعٌ: مريمُ بنتُ عِمران، وفاطمةُ بنتُ رسولِ الله، وخديجةُ بنتُ خُويلِد، وآسيَةُ" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4853 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4853 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اہل جنت کی خواتین کی سردار چار ہیں: مریم بنت عمران، فاطمہ بنتِ رسول اللہ، خدیجہ بنت خویلد اور آسیہ۔“
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عَمّار، حدثنا الفضل بن موسى حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: ما حَسَدتُ امرأةً ما حَسدتُ، خديجة، وما تَزوَّجني إلَّا بعدما ماتت، وذلك أنَّ رسولَ الله ﷺ بَشّرها ببيتٍ في الجنة من قَصَب، لا صَخَبَ فيه ولا نَصَب (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4854 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4854 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں کی جتنی خدیجہ پر کی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ان کی وفات کے بعد نکاح کیا تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں موتیوں کے ایک ایسے گھر کی خوشخبری دی تھی جس میں نہ کوئی شور و غل ہوگا اور نہ ہی کوئی مشقت۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لم يتزوّج النبيُّ ﷺ على خِديجةَ حتى ماتت قالت عائشة: ما رأيتُ خديجةَ قطُّ، ولا غِرتُ على امرأةٍ من نسائه أشدَّ من غَيْرتي على خديجةَ، وذلك مِن كَثْرة ما كان يَذُكرها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ خدیجہ کی موجودگی میں ان کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے نکاح نہیں فرمایا، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: میں نے خدیجہ کو کبھی نہیں دیکھا لیکن آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر مجھے اتنی غیرت نہیں آئی جتنی خدیجہ پر آتی تھی، اور یہ آپ ﷺ کے کثرت سے ان کا تذکرہ فرمانے کی وجہ سے تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔