حدیث نمبر: 4912
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا داود بن أبي الفُرات، عن عِلْباء بن أحمرَ، عن عِكْرمة عن ابن عبّاس قال: خَطَّ رسول الله ﷺ في الأرض أربعةَ خُطوطٍ، وقال: "أَتَدْرُون ما هذا؟ فقالوا: الله ورسوله أعلمُ، فقال رسولُ الله ﷺ: "أفضلُ نِساءِ أهل الجنة خديجةُ بنت خُويلِدٍ، وفاطمةُ بنت محمدٍ، ومَريمُ بنتُ عِمران، وآسِيةُ امرأةُ (1) فرعونَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4912
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4912] [ترقيم الشركة 4880]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في: (ز) وأحسبه وامرأة فرعون، وكذلك كانت في (ص) و (م)، ثم عُدِّلت إلى: وآسية امرأةٍ فرعون، وأغلب الظن أنَّ هذا هو أصل العبارة ثم حُرِّفت، فلذلك أثبتناه على وَفْق ما عُدِّل، ويؤيده أنَّ غير واحدٍ ممن خرَّج الحديث ممن رواه من طريق يونس بن محمد المؤدِّب ذكروها جزمًا من غير شك، فقالوا: وآسية امرأة فرعون، فهو الصواب بلا ريب، وما عداه فتحريف.
تحقیقِ متن: نسخہ (ز) میں "وأحسبہ وامرأۃ فرعون" (میرا گمان ہے کہ فرعون کی بیوی بھی) ہے، (ص) اور (م) میں بھی ایسا ہی تھا پھر اسے "وآسیۃ امرأۃ فرعون" میں تبدیل کر دیا گیا۔ غالب گمان ہے کہ اصل عبارت یہی تھی پھر تحریف ہو گئی۔ اس لیے ہم نے تصحیح شدہ کے مطابق ثابت کیا ہے۔ اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ یونس بن محمد المؤدب کے طریق سے تخریج کرنے والے دیگر راویوں نے بغیر شک کے جزم کے ساتھ "وآسیہ امرأۃ فرعون" ذکر کیا ہے، پس بلاشبہ یہی درست ہے اور اس کے علاوہ تحریف ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ سند: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه النسائي (8297) عن العبّاس بن محمد، بهذا الإسناد.
تخریج / حوالہ: اسے نسائی (8297) نے عباس بن محمد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (4809) من طريق أحمد بن حنبل عن يونس بن محمد.
حوالہ: یہ نمبر (4809) پر احمد بن حنبل عن یونس بن محمد کے طریق سے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4912 سے ماخوذ ہے۔