حدیث نمبر: 4913
أخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: وجدتُ في كتاب أبي بخَطّ يده: حدثنا سعد بن إبراهيم بن سعد ويعقوب بن إبراهيم، قالا: حدثنا أبي، عن صالح، عن ابن شِهَاب، عن عُرْوة، قال: قالت عائشةُ لفاطمةَ بنتِ رسولِ الله ﷺ: ألا أُبَشِّرُكِ؟ إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ: "سيداتُ نِساءِ أهل الجنة أربعٌ: مريمُ بنتُ عِمران، وفاطمةُ بنتُ رسولِ الله، وخديجةُ بنتُ خُويلِد، وآسيَةُ" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4853 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اہل جنت کی خواتین کی سردار چار ہیں: مریم بنت عمران، فاطمہ بنتِ رسول اللہ، خدیجہ بنت خویلد اور آسیہ۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4913
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الصحيح أنه منقطع لا يصح فيه هنا ذكر ابن شهاب - وهو محمد بن مسلم الزُّهْري - ولا عروة - وهو ابن الزبير - فقد جاء هذا الخبر في "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل في موضعين (1336) و (1576) بهذا الإسناد بعينه وجِادةً ...» [ترقيم الرساله 4913] [ترقيم الشركة 4881] [ترقيم العلميه 4853]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الصحيح أنه منقطع لا يصح فيه هنا ذكر ابن شهاب - وهو محمد بن مسلم الزُّهْري - ولا عروة - وهو ابن الزبير - فقد جاء هذا الخبر في "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل في موضعين (1336) و (1576) بهذا الإسناد بعينه وجِادةً عن صالح - وهو ابن كيسان - قال: يقال: قالت عائشة، فذكره … و "فضائل الصحابة" لأحمد يرويه أحمد بن جعفر القطيعي شيخ المصنف هنا، فظهر بذلك وهم رواية الحاكم، وأغلب الظن أنه هو الواهم في ذلك ﵀.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔ اس سند کے رجال "ثقہ" ہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ "منقطع" ہے۔ اس میں ابن شہاب (زہری) اور عروہ (ابن الزبیر) کا ذکر صحیح نہیں ہے۔ یہ خبر احمد بن حنبل کی "فضائل الصحابہ" (1336، 1576) میں اسی سند کے ساتھ صالح (ابن کیسان) سے "وجادۃً" (بغیر سماع کے تحریر پا کر) مروی ہے، انہوں نے کہا: "کہا جاتا ہے کہ عائشہ نے فرمایا..."۔ احمد بن جعفر القطیعی (جو یہاں مصنف کے شیخ ہیں) وہ بھی "فضائل الصحابہ" کے راوی ہیں، جس سے حاکم کی روایت کا "وہم" ہونا ظاہر ہوتا ہے، اور غالب گمان ہے کہ وہم انہی (حاکم) سے ہوا ہے۔
ويشهد له حديث ابن عباس الذي قبله.
شواہد: اس کی تائید ابن عباس کی پچھلی حدیث سے ہوتی ہے۔
وحديث أنس بن مالك المتقدم برقم (4800).
شواہد: اور انس بن مالک کی حدیث سے جو نمبر (4800) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4913 سے ماخوذ ہے۔