المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ سَلَامِ اللَّهِ عَلَى خَدِيجَةَ باب: ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزيٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر اللہ تعالیٰ کے سلام کا ذکر
حدیث نمبر: 4910
أخبرني أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عامر بن صالح بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبير أبو الحارث، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أن النبي ﷺ قال: "أُمرت أن أُبَشِّرَ خديجةَ ببيتٍ في الجنة من قَصَبٍ" (1). قال أبو عبد الرحمن (2): فقلت لأبي: إنَّ يحيى بن مَعِين يَطُعن علي عامر بن صالح هذا، قال: يقول ماذا؟ قلت: رآه سمعَ من الحجّاج، قال: قد رأيتُ أنا حجاجًا يسمع من هُشيم، وهذا عيبٌ أن يسمعَ الرجلُ ممَّن هو أصغرُ منه أو أكبر؟!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4850 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا کہ میں خدیجہ کو جنت میں موتیوں کے ایک گھر کی خوشخبری سنا دوں۔“ ابو عبد الرحمن (عبداللہ بن احمد) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) سے کہا: یحییٰ بن معین اس راوی عامر بن صالح پر جرح کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ اسے عیب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حجاج سے سنا ہے، تو امام احمد نے فرمایا: میں نے خود حجاج کو ہشیم سے سنتے دیکھا ہے، کیا یہ کوئی عیب ہے کہ کوئی شخص اپنے سے چھوٹے یا بڑے سے روایت سنے؟!
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل عامر بن صالح الزبيري، لكنه متابع كما سيأتي عند المصنف برقم (4914).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، مگر یہ سند عامر بن صالح الزبیری کی وجہ سے "ضعیف" ہے، لیکن وہ "متابع" ہیں جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (4914) پر آئے گا۔
وهو في "مسند أحمد" 43 / (26381).
حوالہ: یہ "مسند احمد" (43/ 26381) میں موجود ہے۔
(2) أبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن أحمد بن حنبل. وخبره هذا في "فضائل الصحابة" لأبيه (1587)، و "الكفاية" للخطيب البغدادي ص 110، و "تاريخ بغداد" له 14/ 152.
تعیینِ راوی: ابوعبدالرحمن سے مراد "عبداللہ بن احمد بن حنبل" ہیں۔ ان کی یہ خبر ان کے والد کی کتاب "فضائل الصحابہ" (1587)، خطیب کی "الکفایۃ" (ص 110) اور "تاریخ بغداد" (14/ 152) میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، مگر یہ سند عامر بن صالح الزبیری کی وجہ سے "ضعیف" ہے، لیکن وہ "متابع" ہیں جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (4914) پر آئے گا۔
وهو في "مسند أحمد" 43 / (26381).
حوالہ: یہ "مسند احمد" (43/ 26381) میں موجود ہے۔
(2) أبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن أحمد بن حنبل. وخبره هذا في "فضائل الصحابة" لأبيه (1587)، و "الكفاية" للخطيب البغدادي ص 110، و "تاريخ بغداد" له 14/ 152.
تعیینِ راوی: ابوعبدالرحمن سے مراد "عبداللہ بن احمد بن حنبل" ہیں۔ ان کی یہ خبر ان کے والد کی کتاب "فضائل الصحابہ" (1587)، خطیب کی "الکفایۃ" (ص 110) اور "تاریخ بغداد" (14/ 152) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4910 سے ماخوذ ہے۔