کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — کوفہ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المِسور، قالت: كان الحَسنُ بن علي سُمَّ مِرارًا، كلَّ ذلك يُفلِتُ حتى كانت المرة الأخيرةُ التي مات فيها، فإنه كان يُجتَلَفُ (1) كَبِدُه، فلما مات أقام نساء بني هاشمٍ النَّوحَ عليه شهرًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4804 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4804 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام بکر بنت مسور رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو کئی مرتبہ زہر دیا گیا، ہر بار وہ اس کے اثر سے بچ جاتے تھے یہاں تک کہ آخری مرتبہ جب انہیں زہر دیا گیا تو اسی میں ان کی وفات ہوئی، اس زہر کی شدت سے ان کا جگر کٹ کٹ کر نکلتا تھا، پس جب ان کی وفات ہوئی تو بنو ہاشم کی خواتین نے ایک ماہ تک ان کا سوگ منایا۔
قال ابن عُمر: وحدثنا حفص بن عمر، عن أبي جعفر قال: مَكَثَ الناسُ يبكون على الحسن بن علي، وما تقوم الأسواق (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر (واقدی) کہتے ہیں کہ ہمیں حفص بن عمر نے ابو جعفر سے روایت کیا کہ لوگ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات پر (غم کی شدت سے) روتے رہے اور اس دوران بازار تک بند رہے (کاروبار زندگی معطل رہا)۔
قال ابن عمر: وحدثتنا عُبيدة بنت نابل (2)، عن عائشة بنت سعد، قالت: حد نساء الحسن بن علي سنة (3).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر (واقدی) کہتے ہیں کہ ہمیں عبیدہ بنت نابل نے سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ازواج مطہرات نے ایک سال تک سوگ منایا۔
قال ابن عُمر: وحدثنا داود بن سنان، سمعت ثعلبة بن أبي مالك، قال: شَهِدْنا الحسن بن علي يومَ مات ودفناه بالبقيع، ولو طُرِحتْ إبرةٌ ما وقعتْ إِلَّا على رأس إنسانٍ (4).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر (واقدی) کہتے ہیں کہ ہمیں داود بن سنان نے بتایا کہ میں نے ثعلبہ بن ابی مالک کو کہتے سنا: ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کے دن حاضر ہوئے اور ہم نے انہیں جنت البقیع میں دفن کیا، اس وقت وہاں اتنے زیادہ لوگ جمع تھے کہ اگر کوئی سوئی بھی گرائی جاتی تو وہ زمین کے بجائے کسی نہ کسی انسان کے سر پر ہی گرتی۔
قال ابن عُمر: وحدثني علي بن محمد (1)، حدثني مسلمةُ بن مُحارِب، قال: مات الحسن بن علي سنة خمسين لخمسٍ خَلَونَ من ربيع الأول، وهو ابن ستٍّ وأربعين سنة، وصلى عليه سعيدُ بن العاص وكان يبكي، وكان مرضُه أربعين يومًا (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر (واقدی) کہتے ہیں کہ مجھے علی بن محمد نے بتایا کہ مسلمہ بن محارب نے کہا: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات سن 50 ہجری، 5 ربیع الاول کو ہوئی، اس وقت ان کی عمر 46 برس تھی، ان کی نمازِ جنازہ سعید بن العاص نے پڑھائی اور وہ رو رہے تھے، جبکہ ان کی علالت کی مدت چالیس دن تھی۔
أخبرنا حمزة بن العباس بن الفضل العقَبي ببغداد، حدثنا الحسن بن سلّام السَّوّاق، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا شَيْبان، عن أبي إسحاق قال: بُويعَ لأبي محمد الحسن بن علي بن أبي طالب بالكوفة عَقِيبَ قتل أمير المؤمنين، وأَخَذَ البيعةَ على أصحابه. فحدَّثني حارثة بن مُضرِّب، قال: سمعتُ الحسن بن عليٍّ يقول: والله لا أُبايعُكم إلا على ما أقول لكم، قالوا: ما هي؟ قال: تُسالمون من سالَمْتُ، وتُحاربون من حارَبْتُ. ولما تمَّتِ البيعةُ خَطَبَهم (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: ”اللہ کی قسم! میں تم سے صرف اس شرط پر بیعت لوں گا جو میں تم سے کہوں گا“، لوگوں نے پوچھا: وہ کیا شرط ہے؟ فرمایا: ”تم اس سے صلح کرو گے جس سے میں صلح کروں اور اس سے لڑو گے جس سے میں جنگ کروں“، پس جب بیعت مکمل ہوگئی تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا۔