المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ بَيْعَةِ الْحَسَنِ بِالْكُوفَةِ باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — کوفہ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 4861
قال ابن عُمر: وحدثنا حفص بن عمر، عن أبي جعفر قال: مَكَثَ الناسُ يبكون على الحسن بن علي، وما تقوم الأسواق (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر (واقدی) کہتے ہیں کہ ہمیں حفص بن عمر نے ابو جعفر سے روایت کیا کہ لوگ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات پر (غم کی شدت سے) روتے رہے اور اس دوران بازار تک بند رہے (کاروبار زندگی معطل رہا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف. وحفص بن عمر - وهو ابن رزين الرقاشي - غير معروف، وقد تفرد به محمد بن عمر الواقدي.
درجۂ سند: یہ سند "ضعیف" ہے۔ حفص بن عمر (جو ابن رزین الرقاشی ہیں) غیر معروف ہیں، اور محمد بن عمر الواقدی اس روایت میں منفرد ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 6/ 392 عن محمد بن عمر الواقدي، به. وزاد: يبكون سبعًا.
تخریج / حوالہ: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (6/ 392) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور یہ اضافہ کیا: "وہ سات دن تک روتے رہے۔"
درجۂ سند: یہ سند "ضعیف" ہے۔ حفص بن عمر (جو ابن رزین الرقاشی ہیں) غیر معروف ہیں، اور محمد بن عمر الواقدی اس روایت میں منفرد ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 6/ 392 عن محمد بن عمر الواقدي، به. وزاد: يبكون سبعًا.
تخریج / حوالہ: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (6/ 392) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور یہ اضافہ کیا: "وہ سات دن تک روتے رہے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4861 سے ماخوذ ہے۔