کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم سب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے پہلے جا ملنے والے اور سب سے زیادہ قریب رہنے والے تھے
حدثنا أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسحاق. قال عثمان: وحدثنا علي بن حكيم الأودي وعمرو بن عَون الواسطي، قالا: حدثنا شَريك بن عبد الله، عن أبي إسحاق، قال: سألتُ قُثَمَ بن العباس: كيف وَرِثَ عليّ رسولَ الله ﷺ دونَكم؟ قال: لأنه كان أوّلَنا به لُحوقًا، وأشدَّنا به لُزُوقًا (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4633 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4633 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں نے قثم بن عباس سے پوچھا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ لوگوں (عباس بن عبدالمطلب کی اولاد) کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ کے وارث کیسے بنے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ وہ ہم سب میں پہلے آپ ﷺ کے ساتھ ملے اور سب سے زیادہ آپ ﷺ کے ساتھ جڑے رہنے والے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سمعتُ قاضيَ القضاة أبا الحسن محمد بن صالح الهاشمي يقول: سمعتُ أبا عُمر القاضي يقول: سمعتُ إسماعيل بن إسحاق القاضي يقولُ: وذُكر له قولُ قُثَمَ هذا، فقال: إنما يرثُ الوارثُ بالنسَبِ أو بالولاءِ، ولا خلافَ بين أهل العلم أنَّ ابنَ العمِّ لا يرثُ مع العَمِّ، فقد ظهر بهذا الإجماعِ أن عليًّا ورثَ العلمَ من النبي ﷺ دُونَهم (1). وبصحةِ ما ذكره القاضي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4634 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4634 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
اسماعیل بن اسحاق القاضی نے قثم بن عباس کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”وارث تو نسب یا ولاء کے ذریعے وراثت پاتا ہے، اور اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ چچا کی موجودگی میں ابن العم (چچا زاد) مالی وارث نہیں ہوتا، لہٰذا اس اجماع سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے علم کی وراثت پائی تھی۔“
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان عليٌّ يقول في حياةِ رسولِ الله ﷺ: إنَّ الله يقول: ﴿أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ﴾ [آل عِمران:144]، واللهِ لا نَنقَلِبُ على أعقابِنا بعد إذ هدانا الله، والله لئن ماتَ أو قُتل لأقاتلنَّ على ما قاتل عليه حتى أموتَ والله إني لأخُوه، ووليُّه، وابنُ عمِّه، ووارثُ علمِه، فمَن أحقُّ به مني؟ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی فرمایا کرتے تھے: ”بے شک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَفَإِنْ مَاتَ أو قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ﴾ ”بھلا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟“ [سورة آل عمران: 144] اللہ کی قسم! اللہ کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعد ہم ہرگز الٹے پاؤں نہیں پھریں گے، بخدا اگر آپ ﷺ وفات پا گئے یا شہید کر دیے گئے تو میں اسی مشن پر قتال کروں گا جس پر آپ ﷺ نے قتال کیا یہاں تک کہ میں مر جاؤں، اللہ کی قسم! میں ان کا بھائی، ان کا ولی، ان کا چچا زاد اور ان کے علم کا وارث ہوں، تو مجھ سے زیادہ ان کا حقدار کون ہو سکتا ہے؟“
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سلمة بن كُهَيل، حدثني أبي، عن أبيه، عن سَلَمة (1)، عن مجاهد، عن ابن عبّاس: أن النبي ﷺ قال في خُطبةٍ خَطَبها في حَجّة الوداع: "لأقتُلَنَّ العَمالِقةَ في كَتِيبة" فقال له جبريلُ: أو عَليٌّ، قال: "أو عليُّ بن أبي طالبٍ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4636 - إسمعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل وأبوه متروكان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4636 - إسمعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل وأبوه متروكان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”میں ایک لشکر کے ساتھ عمالقہ سے ضرور قتال کروں گا،“ تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: (یا) علی (یعنی علی قتال کریں گے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا علی بن ابی طالب (قتال کریں گے)۔“