المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ عَلِيٌّ أَوَّلَنَا بِهِ لُحُوقًا ، وَأَشَدَّنَا بِهِ لُزُوقًا . باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم سب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے پہلے جا ملنے والے اور سب سے زیادہ قریب رہنے والے تھے
حدیث نمبر: 4684
سمعتُ قاضيَ القضاة أبا الحسن محمد بن صالح الهاشمي يقول: سمعتُ أبا عُمر القاضي يقول: سمعتُ إسماعيل بن إسحاق القاضي يقولُ: وذُكر له قولُ قُثَمَ هذا، فقال: إنما يرثُ الوارثُ بالنسَبِ أو بالولاءِ، ولا خلافَ بين أهل العلم أنَّ ابنَ العمِّ لا يرثُ مع العَمِّ، فقد ظهر بهذا الإجماعِ أن عليًّا ورثَ العلمَ من النبي ﷺ دُونَهم (1). وبصحةِ ما ذكره القاضي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4634 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
اسماعیل بن اسحاق القاضی نے قثم بن عباس کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”وارث تو نسب یا ولاء کے ذریعے وراثت پاتا ہے، اور اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ چچا کی موجودگی میں ابن العم (چچا زاد) مالی وارث نہیں ہوتا، لہٰذا اس اجماع سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے علم کی وراثت پائی تھی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وعلى ذلك حمل ابن مَعِين هذا الخبرَ أيضًا في سؤال ابن الأُشْناني له عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 393.
نوٹ / توضیح: ابن معین نے بھی اس خبر کو اسی مفہوم (علمی وراثت) پر محمول کیا ہے، جیسا کہ ابن الاشنانی کے سوال میں ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (42/ 393) میں مذکور ہے۔
نوٹ / توضیح: ابن معین نے بھی اس خبر کو اسی مفہوم (علمی وراثت) پر محمول کیا ہے، جیسا کہ ابن الاشنانی کے سوال میں ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (42/ 393) میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4684 سے ماخوذ ہے۔