کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تمام دروازے بند کر دو سوائے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر البزّار ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عَوف، عن ميمون أبي عبد الله، عن زيد بن أرقم، قال: كانت لنفرٍ من أصحاب رسول الله ﷺ أبوابٌ شارعةٌ في المسجد، فقال يومًا: "سُدُّوا هذه الأبوابَ إلَّا بابَ عليٍّ"، قال: فتكلّم في ذلك ناسٌ، فقام رسولُ الله ﷺ فَحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: "أما بعدُ، فإني أُمِرْتُ بسَدِّ هذه الأبوابِ غيرَ بابِ عليٍّ، فقال فيه قائلُكم والله ما سَدَدتُ شيئًا ولا فتحتُه، ولكن أُمرتُ بشيءٍ فاتَّبعتُه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4631 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی کے دروازے کے سوا یہ تمام دروازے بند کر دو،“ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس پر چہ میگوئیاں کیں تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”امابعد! مجھے علی کے دروازے کے علاوہ یہ تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تمہارے درمیان کسی کہنے والے نے اس پر بات کی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اپنی مرضی سے کچھ بند کیا نہ کھولا، بلکہ مجھے ایک بات کا حکم دیا گیا تو میں نے اسی کی پیروی کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4681
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، ميمون أبو عبد الله» [ترقيم الرساله 4681] [ترقيم الشركة 4656] [ترقيم العلميه 4631]
أخبرني الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفَراييني، حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن عبد الله بن جعفر المَدِيني، حدثنا أبي، أخبرني سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال عمر بن الخطاب: لقد أُعطيَ عليُّ بن أبي طالب ثلاثَ خِصالٍ، لأن تكون فيَّ خَصْلَةٌ منها أحبُّ إليَّ من أن أُعطَى حُمْرَ النَّعَم، قيل: وما هُنّ يا أميرَ المؤمنين؟ قال: تَزوُّجُه فاطمةَ بنتَ رسولِ الله ﷺ، وسُكْناهُ المسجدَ مع رسول الله ﷺ يَحِلُّ له فيه ما يَحِلُّ له، والرايةُ يومَ خَيبرَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4632 - بل المديني عبد الله بن جعفر ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصلتیں عطا کی گئی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں کی دولت سے زیادہ محبوب ہوتی،“ عرض کیا گیا: اے امیر المؤمنین! وہ کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”پہلی ان کا رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سے نکاح، دوسری ان کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں رہائش پذیر ہونا کہ ان کے لیے وہاں وہ سب حلال تھا جو آپ ﷺ کے لیے حلال تھا، اور تیسری خیبر کے دن جھنڈا ملنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4682
درجۂ حدیث محدثین: صحيح إن شاء الله
تخریج حدیث «صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف موصولًا من أجل عبد الله بن جعفر المديني فهو ضعيف الحديث وممَّن ضعفه ابنُه عليٌّ الإمام المعروف الذي روى عنه هذا الخبر هنا، وخالفه في إسناده يعقوب بن عبد الرحمن الزُّهْري، وهو ثقة، فرواه عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه: أنَّ عمر ...» [ترقيم الرساله 4682] [ترقيم الشركة 4657] [ترقيم العلميه 4632]