حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الرحيم الهَرَوي بالرَّمْلة، حدثنا أبو الصَّلْت عبد السلام بن صالح، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مُجاهِد، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ: "أنا مَدينةُ العلمِ، وعليٌّ بابُها، فمن أرادَ المدينةَ فليأْتِ البابَ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو الصَّلْت ثقة مأمون
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4637 - بل موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو الصَّلْت ثقة مأمون
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4637 - بل موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو شہر میں داخل ہونا چاہے اسے چاہیے کہ وہ دروازے سے آئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابوصلت ثقہ و مامون راوی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابوصلت ثقہ و مامون راوی ہے۔
فإني سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب في "التاريخ" يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوري يقول: سألت يحيى بنَ مَعِين عن أبي الصَّلْت الهروي، فقال: ثقة، فقلت: أليس قد حدَّث عن أبي معاوية عن الأعمش: "أنا مدينةُ العلم"؟ فقال: قد حدَّث به محمد بن جعفر الفَيْدي، وهو ثقة مأمون (1).
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد دوری سے روایت ہے کہ میں نے یحییٰ بن معین سے ابوصلت ہروی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”وہ ثقہ ہیں،“ میں نے عرض کیا: کیا انہوں نے ابو معاویہ کے واسطے سے ”میں علم کا شہر ہوں“ والی حدیث بیان نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ حدیث محمد بن جعفر فیدی نے بھی بیان کی ہے اور وہ ثقہ و مامون ہیں۔“
سمعت أبا نصر أحمد بن سهل الفقيه القَبّاني إمامَ عصره ببُخارى يقول: سمعت صالح بن محمد بن حبيب الحافظ يقول، وسُئل عن أبي الصَّلْت الهَروي، فقال: دخل يحيى بنُ مَعِين ونحن معه على أبي الصَّلْت فسلّم عليه، فلما خرج تبعتُه، فقلت له: ما تقولُ رحمَك الله في أبي الصَّلْت؟ فقال: هو صدوق، فقلت له: إنه يروي حديث الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبّاس، عن النبي ﷺ: "أنا مدينةُ العِلم، وعليٌّ بابُها، فمن أراد العلمَ فليأتِها من بابِها"، فقال: قد روى هذا ذاك الفَيْديُّ عن أبي معاوية عن الأعمش كما رواه أبو الصَّلْت.
حافظ طلحہ بابر
صالح بن محمد بن حبیب الحافظ سے روایت ہے کہ جب یحییٰ بن معین سے ابوصلت ہروی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ صدوق (سچے) ہیں،“ اور جب ان سے ان کی روایت ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو علم چاہتا ہے وہ اس کے دروازے سے آئے“ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حدیث فیدی نے بھی ابو معاویہ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے ابوصلت نے کی ہے۔“
حدثنا بصحّة ما ذكره الإمام أبو زكريا يحيى بن مَعِين: أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطري، حدثنا الحُسين بن فَهم، حدثنا محمد بن يحيى بن الضُّرَيس، حدثنا محمد بن جعفر الفَيْدي، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ: "أنا مدينةُ العِلم، وعليٌّ بابها، فمن أراد المدينةَ فليأتِ البابَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4638 - أحمد بن عبد الله بن يزيد الحراني هذا دجال كذاب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4638 - أحمد بن عبد الله بن يزيد الحراني هذا دجال كذاب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو شہر میں داخل ہونا چاہے اسے چاہیے کہ وہ دروازے سے آئے۔“
قال الحُسين بن فَهْم: حدَّثَناه أبو الصَّلْت الهَرَوي عن أبي معاوية (2). قال الحاكم: ليعلمِ المستفيدُ لهذا العِلمِ أنَّ الحُسين بن فَهْم بن عبد الرحمن ثقة مأمونٌ حافظٌ. ولهذا الحديث شاهدٌ من حديث سفيان الثَّوْري بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
حسین بن فہم بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت ابوالصلت ہروی نے ابومعاویہ کے واسطے سے سنائی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: علمِ حدیث کے طالب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حسین بن فہم بن عبدالرحمن ثقہ، معتبر اور حافظِ حدیث ہیں، اور اس حدیث کی ایک شاہد روایت سفیان ثوری کی حدیث سے بھی مروی ہے جو صحیح سند کے ساتھ ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: علمِ حدیث کے طالب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حسین بن فہم بن عبدالرحمن ثقہ، معتبر اور حافظِ حدیث ہیں، اور اس حدیث کی ایک شاہد روایت سفیان ثوری کی حدیث سے بھی مروی ہے جو صحیح سند کے ساتھ ہے۔
حدثني أبو بكر محمد بن علي الفقيه الإمام الشاشِي القَفّال ببُخارى وأنا سألته، حدثني النعمان بن هارون البَلَدي ببَلَدَ من أصلِ كتابه، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يزيد الحَرّاني، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن عبد الله عثمان بن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن عثمان التَّيمي، قال: سمعتُ جابرَ بن عبد الله يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أنا مدينةُ العِلمِ، وعليٌّ بابُها، فمن أرادَ العِلمَ فليأتِ البابَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو علم حاصل کرنا چاہے اسے چاہیے کہ وہ دروازے سے آئے۔“