فحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المُزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد العزيز (1) بن حاتم، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا المسعودي، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي عُبيدة، عن أبي موسى، قال: سمَّى لنا رسولُ الله ﷺ نفسَه أسماءً، فمنها ما حَفِظْنا ومنها ما نَسِينا، قال: "أنا محمدٌ وأحمدُ والمُقفِّي والحاشِر، ونبيُّ التوبة والمَلْحَمة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4185 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4185 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بیان فرمائے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد رہے اور کچھ ہم بھول گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفی (سب کے بعد آنے والا) ہوں، حاشر (جمع کرنے والا) ہوں، توبہ کا نبی ہوں اور ملحمہ (جہاد و قتال) کا نبی ہوں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي، حدثنا الحُسين بن حميد، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن جعفر بن أبي وَحشِيّة، عن نافع بن جُبَير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أنا محمدٌ وأحمدُ والمُقفِّي والحاشِرُ والخاتِمُ والعاقِب" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4186 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4186 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفی (پیچھے آنے والا) ہوں، حاشر ہوں، خاتم (ختم کرنے والا) ہوں اور عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال: "أنا أبو القاسِم، اللهُ يُعطِي وأنا أَقسِمُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4187 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4187 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ابوالقاسم ہوں، اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد بن شَرِيك وأحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، قالا: حدثنا عمرو بن خالد الحَرّاني، حدثنا ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حَبيب وعُقيل، عن ابن شِهَاب، عن أنس، قال: لما وُلِد إبراهيمُ ابن النبي ﷺ، أتاهُ جبريلُ فقال: السلامُ عليك يا أبا إبراهيمَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4188 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4188 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی ولادت ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: «السلام عليك يا أبا إبراهيم» ”سلام ہو آپ پر اے ابراہیم کے والد!“
حدثني بكر بن محمد الصَّيْرَفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا عُبيد بن إسحاق العَطّار، حدثنا القاسم بن محمد بن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، حدثني أبي، حدثني أبي، عن جابر بن عبد الله، قال: صَعِدَ رسولُ الله ﷺ المِنبرَ فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: "مَن أنا؟ قلنا: رسولُ الله، قال: "نعم، ولكن مَن أنا؟ " قلنا: أنتَ محمدُ بن عبد الله بن عبد المُطَّلب بن هاشم بن عبد مَناف، قال: "أنا سَيِّدُ ولدِ آدمَ ولا فَخْرَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4189 - لا والله القاسم بن محمد بن عبد الله بن محمد بن عقيل متروك تالف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4189 - لا والله القاسم بن محمد بن عبد الله بن محمد بن عقيل متروك تالف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میں کون ہوں؟“ ہم نے عرض کیا: آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور (یہ میں بطورِ) فخر (نہیں کہہ رہا)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا عفّان، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم بن كُليب، عن أبيه، قال: حدثتْني ربيبةُ النبيِّ ﷺ زينبُ، وقلت لها: أخبريني عن النبي ﷺ، ممن كان؟ من مُضَرَ كان؟ قالت: فممَّن كان إِلَّا من مُضَرَ، من ولدِ النَّضر بن كِنانة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4190 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4190 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
نبی کریم ﷺ کی پروردہ (بیٹی) سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، (عاصم بن کلیب کہتے ہیں) میں نے ان سے کہا: مجھے نبی کریم ﷺ کے متعلق بتائیے کہ آپ کس قبیلے سے تھے؟ کیا آپ قبیلہ مضر سے تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ قبیلہ مضر ہی سے تھے، یعنی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إبراهيم بن محمد المُزكِّي ومحمد بن يعقوب الحافظ، قالا: حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أبو يحيى، حدثنا صَدَقة بن سابِق، قال: قرأتُ على محمد بن إسحاق، قال: حدثني مُطَّلِب بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن أبيه، عن جده: أنه ذَكَرَ ولادةَ رسولِ الله ﷺ، فقال: تُوفّي أبُوه وأمُّه حُبْلَى به (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4191 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4191 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب آپ کی والدہ حاملہ تھیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔