حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني المُطَّلب بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن أبيه، عن جده قيس بن مَخْرَمةَ، قال: وُلِدتُ أنا ورسولُ الله ﷺ عامَ الفيل، كنّا لِدَينِ (1). قال ابن إسحاق: كان رسولُ الله ﷺ عامَ عُكَاظٍ ابنَ عشرين سنةً (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ”عام الفیل“ (ہاتھی والے سال) میں پیدا ہوئے تھے، ہم دونوں ہم عمر تھے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عکاظ (کی جنگ) کے وقت بیس سال کے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر البغدادي لفظًا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَون الواسِطيّ، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن العباس بن عبد الرحمن، عن كِنْدِير بن سعيد، عن أبيه، قال: حَجَجْتُ في الجاهلية، فإذا أنا برجل يطوفُ بالبيت، وهو يَرتَجِزُ ويقول: ربِّ رُدَّ إليَّ راكِبِي مُحمَّدا … يا ربِّ رُدَّه إليَّ واصطَنِعْ عندي يَدا فقلتُ: مَن هذا؟ فقالوا: عبد المطَّلب بن هاشم، بَعَثَ بابن ابنه محمدٍ في طلب إبل له ولم يبعثه في حاجةٍ إلّا أنْجَحَ فيها، وقد أبطأَ عليه، فلم يَلبَثْ أن جاء محمدٌ والإبلُ، فاعتَنَقَه، وقال: يا بُنيّ، لقد جَزِعتُ عليك جَزَعًا لم أَجْزَعْه على شيءٍ قطُّ، والله لا أبعثُك في حاجةٍ أبدًا، ولا تُفارِقُني بعد هذا أبدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان من أسامي رسول الله ﷺ على محمد وأحمد والحاشِر والعاقِب والماحِي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4184 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان من أسامي رسول الله ﷺ على محمد وأحمد والحاشِر والعاقِب والماحِي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4184 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
کندیر بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے جاہلیت کے دور میں حج کیا تو میں نے ایک شخص کو دیکھا جو بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اور وہ یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا: «رَبِّ رُدَّ إِلَيَّ رَاكِبِي مُحَمَّدًا … يَا رَبِّ رُدَّهُ إِلَيَّ وَاصْطَنِعْ عِندِي يَدًا» ”اے میرے رب! میرا سوار محمد مجھے واپس لوٹا دے، اے میرے رب! اسے میری طرف واپس بھیج دے اور مجھ پر یہ احسان فرما دے۔“ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں، انہوں نے اپنے پوتے محمد (ﷺ) کو اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں بھیجا ہے، اور وہ جس کام کے لیے بھی انہیں بھیجتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب ہو کر لوٹتے ہیں، لیکن اس بار انہیں آنے میں دیر ہو گئی ہے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ محمد (ﷺ) اونٹ لے کر آ پہنچے، تو عبدالمطلب نے انہیں گلے لگا لیا اور کہا: اے میرے پیارے بیٹے! میں تمہارے لیے اتنا زیادہ بے چین ہوا کہ کبھی کسی چیز کے لیے اتنا غمزدہ نہیں ہوا تھا، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی کسی کام کے لیے (تنہا) نہیں بھیجوں گا اور نہ ہی تم اب کبھی مجھ سے جدا ہو گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین نے رسول اللہ ﷺ کے اسماء گرامی میں محمد، احمد، حاشر، عاقب اور ماحی پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین نے رسول اللہ ﷺ کے اسماء گرامی میں محمد، احمد، حاشر، عاقب اور ماحی پر اتفاق کیا ہے۔