حدیث نمبر: 4232
حدثنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال: "أنا أبو القاسِم، اللهُ يُعطِي وأنا أَقسِمُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4187 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ابوالقاسم ہوں، اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 4232
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عجلان» [ترقيم الرساله 4232] [ترقيم الشركة 4209] [ترقيم العلميه 4187]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عجلان - والد محمد، وهو مولى فاطمة بنت عتبة - وقد رُوي عن أبي هريرة من وجوه أُخرى.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سند "عجلان" (محمد کے والد اور فاطمہ بنت عتبہ کے آزاد کردہ غلام) کی وجہ سے جید (عمدہ) ہے۔
نوٹ / توضیح: یہی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دیگر کئی سندوں (طرق) سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9598) عن يحيى بن سعيد القطان وابن حبان (5817) من طريق سفيان الثوري، كلاهما عن محمد بن عجلان، به.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے "المسند" 15/ (9598) میں یحییٰ بن سعید القطان کے واسطے سے اور ابن حبان نے (5817) میں سفیان بن سعید ثوری کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں (یحییٰ اور سفیان ثوری) اسے محمد بن عجلان سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 16/ (10257)، والبخاري (3117) من طريق عبد الرحمن بن أبي عمرة، والنسائي (5808) طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن كلاهما عن أبي هريرة دون قوله: "أنا أبو القاسم". ورواية ابن أبي عمرة: "ما أعطيكم ولا أمنعكم، إنما أنا قاسم أضعُ حيث أُمِرتُ".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 16/ (10257)، امام بخاری (3117) نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ کے طریق سے، اور امام نسائی (5808) نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں مگر اس میں "أنا أبو القاسم" (میں ابوالقاسم ہوں) کے الفاظ نہیں ہیں۔
تفصیلِ روایت: ابن ابی عمرہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: "میں تمہیں اپنی طرف سے کچھ نہیں دیتا اور نہ ہی روکتا ہوں، میں تو صرف تقسیم کرنے والا (قاسم) ہوں، جہاں مجھے حکم دیا جاتا ہے وہیں رکھتا ہوں"۔
وأخرجه أحمد 13/ (7728) من طريق موسى بن يسار، عن أبي هريرة. بلفظ: "تَسمُّوا بي ولا تكتنوا بي، أنا أبو القاسم"، وإسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 13/ (7728) میں موسیٰ بن یسار کے طریق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس کے الفاظ یہ ہیں: "تم میرے نام پر نام تو رکھو مگر میری کنیت (ابوالقاسم) اختیار نہ کرو، میں ہی ابوالقاسم ہوں"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4232 سے ماخوذ ہے۔