المستدرك على الصحيحين
ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم— سید المرسلین حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل کے حالات و واقعات کا ذکر
ذِكْرُ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُنَاهُ باب: رسول اللہ ﷺ کے اسمائے گرامی اور کنیتوں کا ذکر
حدیث نمبر: 4230
فحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المُزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد العزيز (1) بن حاتم، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا المسعودي، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي عُبيدة، عن أبي موسى، قال: سمَّى لنا رسولُ الله ﷺ نفسَه أسماءً، فمنها ما حَفِظْنا ومنها ما نَسِينا، قال: "أنا محمدٌ وأحمدُ والمُقفِّي والحاشِر، ونبيُّ التوبة والمَلْحَمة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4185 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بیان فرمائے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد رہے اور کچھ ہم بھول گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفی (سب کے بعد آنے والا) ہوں، حاشر (جمع کرنے والا) ہوں، توبہ کا نبی ہوں اور ملحمہ (جہاد و قتال) کا نبی ہوں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله، والتصويب من سائر روايات الحاكم من طريقه.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبد اللہ" ہو گیا ہے، جبکہ حاکم کی دیگر روایات کی روشنی میں درست نام کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد العزيز بن حاتم، وقد توبع أبو نُعيم: هو الفضل بن دُكين، والمسعودي: هو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة، وأبو عُبيدة: هو ابن عبد الله بن مسعود.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند عبد العزیز بن حاتم کی وجہ سے حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں، المسعودی سے مراد عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عتبہ ہیں، اور ابو عبیدہ سے مراد ابن عبد اللہ بن مسعود ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (19525) و (19621) و (19651) من طرق عن المسعودي، بهذا الإسناد. وقال في روايةٍ عن المسعودي: "نبي الرحمة" بدل: "نبي الملحمة".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (19525، 19621، 19651) میں مسعودی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: مسعودی کی ایک روایت میں "نبی الملحمہ" (جنگوں والے نبی) کے بجائے "نبی الرحمہ" کے الفاظ آئے ہیں۔
وأخرجه مسلم (2355)، وابن حبان (6314) من طريق الأعمش، عن عمرو بن مرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (2355) اور ابن حبان (6314) نے اعمش کے طریق سے عمرو بن مرہ سے روایت کیا ہے۔
لكن جاء في رواية مسلم: "نبي التوبة ونبي الرحمة"، وفي رواية ابن حبان: "نبي الرحمة ونبي الملحمة". واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
تفصیلِ روایت: مسلم کی روایت میں "نبی التوبہ اور نبی الرحمہ" کے الفاظ ہیں، جبکہ ابن حبان کی روایت میں "نبی الرحمہ اور نبی الملحمہ" کے الفاظ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبد اللہ" ہو گیا ہے، جبکہ حاکم کی دیگر روایات کی روشنی میں درست نام کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد العزيز بن حاتم، وقد توبع أبو نُعيم: هو الفضل بن دُكين، والمسعودي: هو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة، وأبو عُبيدة: هو ابن عبد الله بن مسعود.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند عبد العزیز بن حاتم کی وجہ سے حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں، المسعودی سے مراد عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عتبہ ہیں، اور ابو عبیدہ سے مراد ابن عبد اللہ بن مسعود ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (19525) و (19621) و (19651) من طرق عن المسعودي، بهذا الإسناد. وقال في روايةٍ عن المسعودي: "نبي الرحمة" بدل: "نبي الملحمة".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (19525، 19621، 19651) میں مسعودی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: مسعودی کی ایک روایت میں "نبی الملحمہ" (جنگوں والے نبی) کے بجائے "نبی الرحمہ" کے الفاظ آئے ہیں۔
وأخرجه مسلم (2355)، وابن حبان (6314) من طريق الأعمش، عن عمرو بن مرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (2355) اور ابن حبان (6314) نے اعمش کے طریق سے عمرو بن مرہ سے روایت کیا ہے۔
لكن جاء في رواية مسلم: "نبي التوبة ونبي الرحمة"، وفي رواية ابن حبان: "نبي الرحمة ونبي الملحمة". واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
تفصیلِ روایت: مسلم کی روایت میں "نبی التوبہ اور نبی الرحمہ" کے الفاظ ہیں، جبکہ ابن حبان کی روایت میں "نبی الرحمہ اور نبی الملحمہ" کے الفاظ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4230 سے ماخوذ ہے۔