حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يوسف بن عبد الله الخُوارزمي ببيت المَقدِس، حدثنا أبو سعيد يحيى بن سليمان الجُعفي، حدثنا يحيى بن يَمَان، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قَبْرَ أُمِّه في ألف مُقنَّعٍ، فما رُئِيَ أكثرُ باكِيًا من ذلك اليوم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحدَه حديث مُحارِب بن دِثار، عن ابن بُريدة، عن أبيه: "استأذنتُ ربِّي في الاستغفارِ لأُمِّي فلم يأْذَنْ لي" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4192 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحدَه حديث مُحارِب بن دِثار، عن ابن بُريدة، عن أبيه: "استأذنتُ ربِّي في الاستغفارِ لأُمِّي فلم يأْذَنْ لي" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4192 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ہزار نقاب پوشوں (سواروں) کے ساتھ اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، تو اس دن سے زیادہ کسی کو روتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا محارب بن دثار کی ابن بریدہ سے مروی یہ روایت نقل کی ہے: ”میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیے بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا محارب بن دثار کی ابن بریدہ سے مروی یہ روایت نقل کی ہے: ”میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیے بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی۔“
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا الليث، عن عُقيل، عن ابن شِهَاب، عن عبد الرحمن بن [عبد الله بن] كعب بن مالك [أنَّ عبد الله بن كعب] (3) قال: سمعت كعب بن مالك يقول: لما سَلَّمتُ على رسول الله ﷺ، وهو يَبْرُقُ وجهُه، وكان رسولُ الله ﷺ إذا سُرَّ استنَار وجهُه كأنه قِطْعةُ قَمَر، وكان يُعرَف ذلك منه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجا الحديثَ بطوله، ولم يُخرجا هذه اللفظة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4193 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجا الحديثَ بطوله، ولم يُخرجا هذه اللفظة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4193 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا تو آپ کا چہرہ مبارک دمک رہا تھا، اور رسول اللہ ﷺ جب خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ مبارک چاند کے ٹکڑے کی طرح روشن ہو جاتا تھا اور آپ کی یہ کیفیت پہچان لی جاتی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے طویل حدیث تو روایت کی ہے لیکن ان الفاظ کو روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے طویل حدیث تو روایت کی ہے لیکن ان الفاظ کو روایت نہیں کیا۔