المستدرك على الصحيحين
ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم— سید المرسلین حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل کے حالات و واقعات کا ذکر
ذِكْرُ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُنَاهُ باب: رسول اللہ ﷺ کے اسمائے گرامی اور کنیتوں کا ذکر
حدیث نمبر: 4235
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا عفّان، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم بن كُليب، عن أبيه، قال: حدثتْني ربيبةُ النبيِّ ﷺ زينبُ، وقلت لها: أخبريني عن النبي ﷺ، ممن كان؟ من مُضَرَ كان؟ قالت: فممَّن كان إِلَّا من مُضَرَ، من ولدِ النَّضر بن كِنانة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4190 - صحيححافظ طلحہ بابر
نبی کریم ﷺ کی پروردہ (بیٹی) سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، (عاصم بن کلیب کہتے ہیں) میں نے ان سے کہا: مجھے نبی کریم ﷺ کے متعلق بتائیے کہ آپ کس قبیلے سے تھے؟ کیا آپ قبیلہ مضر سے تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ قبیلہ مضر ہی سے تھے، یعنی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح لكن دون ذكر عاصم بن كليب في إسناده، وذكره خطأ من عَفَّان بن مسلم، كما قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 10/ 330.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں عاصم بن کلیب کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں عاصم بن کلیب کا نام شامل کرنا عفان بن مسلم کی خطا ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے "فتح الباری" 10/330 میں اس کی وضاحت کی ہے۔
وأخرجه البخاري (3491) عن قيس بن حفص البصري، و (3492) عن موسى بن إسماعيل، كلاهما عن عبد الواحد بن زياد، عن كليب بن وائل، عن ربيبة النبي ﷺ زينب بنت أبي سلمة. فلم يذكرا في روايتهما عن عبد الواحد عاصم بن كليب. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (3491) میں قیس بن حفص بصری کے طریق سے اور (3492) میں موسیٰ بن اسماعیل کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبدالواحد بن زیاد سے، وہ کلیب بن وائل سے اور وہ نبی اکرم ﷺ کی پروردہ زینب بنت ابی سلمہ سے نقل کرتے ہیں۔
اہم نکتہ: ان دونوں نے عبدالواحد سے روایت میں عاصم بن کلیب کا ذکر نہیں کیا، اور امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی اپنی چوک (ذہول) ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں عاصم بن کلیب کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں عاصم بن کلیب کا نام شامل کرنا عفان بن مسلم کی خطا ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے "فتح الباری" 10/330 میں اس کی وضاحت کی ہے۔
وأخرجه البخاري (3491) عن قيس بن حفص البصري، و (3492) عن موسى بن إسماعيل، كلاهما عن عبد الواحد بن زياد، عن كليب بن وائل، عن ربيبة النبي ﷺ زينب بنت أبي سلمة. فلم يذكرا في روايتهما عن عبد الواحد عاصم بن كليب. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (3491) میں قیس بن حفص بصری کے طریق سے اور (3492) میں موسیٰ بن اسماعیل کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبدالواحد بن زیاد سے، وہ کلیب بن وائل سے اور وہ نبی اکرم ﷺ کی پروردہ زینب بنت ابی سلمہ سے نقل کرتے ہیں۔
اہم نکتہ: ان دونوں نے عبدالواحد سے روایت میں عاصم بن کلیب کا ذکر نہیں کیا، اور امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی اپنی چوک (ذہول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4235 سے ماخوذ ہے۔