کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن قیام
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبّاس، قال: مَكَثَ يونسُ في بطن الحُوت أربعين يومًا (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4124 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4124 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت یونس علیہ السلام چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔“
أخبرني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا أبو حمزة العَطّار، قال: سمعتُ الحسنَ وسُئل عن قول الله ﷿: ﴿فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ﴾ [الصافات: 143]، قال: كان يُكثِر الصلاةَ في الرَّخاء (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4125 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4125 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ﴾ ”پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے“ [سورة الصافات: 143] کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خوشحالی کے وقت کثرت سے نماز پڑھا کرتے تھے۔“
أخبرني أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد، حدثنا عثمان بن محمد، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا شَريك بن عبد الله، عن مُجالد، عن الشَّعْبي: أنَّ يونسَ بن مَتَّى الْتَقَمَه الحوتُ ضُحًى ولَفَظَه عَشِيّةً (2).
حافظ طلحہ بابر
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یونس بن متی (علیہ السلام) کو مچھلی نے چاشت کے وقت نگلا تھا اور اسی دن شام کے وقت اگل دیا تھا۔“
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن مُغفّل المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن كَثير بن زيد، عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن مصعب بن سعد، عن سعد، قال: قال النبي ﷺ: "مَن دعا بدُعاءِ يُونسَ الذي دعا به في بَطْنِ الحُوت، استُجيبَ له" (3). هذا شاهدٌ لما تَقدَّمَه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے یونس (علیہ السلام) والی وہ دعا مانگی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی، تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔“
یہ گزشتہ حدیث کے لیے ایک شاہد (تائیدی روایت) ہے۔
یہ گزشتہ حدیث کے لیے ایک شاہد (تائیدی روایت) ہے۔
أخبرنا أبو محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَراء، حدثنا عبد المُنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب: أنَّ يونس بن مَتَّى كان عبدًا صالحًا، وكان في خُلُقه ضِيقٌ، فلما حُمّلَت عليه أثقالُ النبوة - ولها أثقالٌ لا يَحمِلُها إلَّا قليلٌ - تَفسَّخَ تحتها تَفسُّخَ الرُّبَعِ تحت الحِمْل، فقَذَفها من يَدَيه وخرج هارِبًا منها، يقول اللهُ ﷿ لنبيه محمد ﷺ: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ [الأحقاف: 35]، وَ ﴿فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ﴾ [القلم: 48]، أي: لا تُلْقِ أمري كما ألقاهُ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4128 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4128 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یونس بن متی (علیہ السلام) ایک نیک بندے تھے، لیکن ان کی فطرت میں سختی تھی۔ پس جب ان پر نبوت کا بھاری بوجھ ڈالا گیا، اور اس کے ایسے بوجھ ہوتے ہیں جنہیں بہت کم لوگ ہی اٹھا پاتے ہیں، تو وہ اس بوجھ کے نیچے اس طرح دب گئے جیسے کوئی کمزور جانور بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس (ذمہ داری) کو اپنے ہاتھوں سے رکھ دیا اور وہاں سے بھاگ نکلے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ ”پس آپ صبر کریں جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔“ [سورة الأحقاف: 35] اور فرمایا: ﴿فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ﴾ ”پس آپ اپنے رب کے فیصلے پر صبر کریں اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہو جائیں، جب انہوں نے پکارا اور وہ غم سے بھرے ہوئے تھے۔“ [سورة القلم: 48] یعنی میرا حکم اس طرح نہ چھوڑیں جس طرح انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔“