کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ کے نبی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر، جنہیں اللہ نے ذوالنون فرمایا
أخبرني أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحُسين بن حميد، حدثنا مروان بن جعفر، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، عن الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: وكان يُونسُ بن مَتّى الذي سمّاه الله ذا النُّون، فقال: ﴿وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87]، فاستجابَ اللهُ له فَنَجّاهُ من الغَمّ من ظُلُماتٍ ثلاثٍ: ظُلْمةِ الليل، وظُلْمةِ البحر، وظُلْمةِ بطن الحُوت، وتاب على قومه، وأرسَلَه إلى مئة ألفٍ أو يزيدون، فآمَنُوا فمتَّعهم اللهُ إلى آجالِهمُ التي كَتَبَها لهم، ولم يُهلِكْهُم بالعذاب (3).
حافظ طلحہ بابر
کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اور یونس بن متی وہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذوالنون کا نام دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اور مچھلی والے کو (یاد کریں) جب وہ غصے میں چل دیے، پس انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے، تو انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔“ [سورة الأنبياء: 87] پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں تین اندھیروں کی گھٹن سے نجات دی: رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا، اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی توبہ قبول فرمائی، اور انہیں ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا، پس وہ لوگ ایمان لے آئے تو اللہ نے انہیں ان کی مقررہ مدتوں تک جو اس نے ان کے لیے لکھ دی تھیں، فائدہ اٹھانے کا موقع دیا اور انہیں عذاب سے ہلاک نہیں کیا۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان بن أبي داود البُرُلُّسي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق السَّبِيعي، حدثني إبراهيم بن محمد بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني والدي محمد، عن أبيه سعد قال: قال النبي ﷺ: "دعوةُ ذي النُّون التي دعا بها في بطنِ الحُوت: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87] لم يَدْعُ مسلمٌ بها في كُرْبةٍ إلَّا استجاب اللهُ له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4121 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4121 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا“ [سورة الأنبياء: 87]، کوئی بھی مسلمان شخص کسی مصیبت یا پریشانی میں یہ دعا نہیں مانگتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر بن إسحاق من أصل كتابه، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن هِلال بن علي، عن عطاء بن يَسار، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال: "من قال: إنِّي خَيرٌ من يونس بن مَتَّى، فقد كَذَبَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما اتفقا على حديث أبي العَالِية عن ابن عبّاس: "لا يَنبغي لأحدٍ أن يقول: إني خَيرٌ من يُونسَ بن مَتّى" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4122 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما اتفقا على حديث أبي العَالِية عن ابن عبّاس: "لا يَنبغي لأحدٍ أن يقول: إني خَيرٌ من يُونسَ بن مَتّى" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4122 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے یہ کہا کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں، تو اس نے جھوٹ بولا۔“
یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا ابوالعالیہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث پر اتفاق ہے کہ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا): ”کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا ابوالعالیہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث پر اتفاق ہے کہ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا): ”کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان بن مُسلِم وأبو سَلَمة، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا داود بن أبي هند، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ثَنِيَّةٍ، فقال: "ما هذه؟ " قالوا: هذه ثَنِيّةُ كذا وكذا، قال: "كأني أنظُرُ إلى يُونسَ بن متَّى على ناقةٍ خِطامُها لِيفٌ، وعليه جُبّةٌ من صُوف، وهو يقول: لَبَّيكَ اللهم لَبَّيك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4123 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4123 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک پہاڑی گھاٹی سے گزرے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس بن متی (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک اونٹنی پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، اور ان پر اون کا ایک چغہ (جبہ) ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ» ”حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔