کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس بات میں اختلاف کا بیان کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے یا سیدنا اسحاق علیہ السلام
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا يحيى بن اليمان، حدثنا سفيان، عن بَيَان، عن الشَّعْبي، عن ابن عباس، قال: الذَّبِيحُ إسماعيل (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4034 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4034 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ذبیح (جسے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ) اسماعیل علیہ السلام ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا الحسن بن حماد، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان، عن إسرائيل، عن ثُوَير بن أبي فاختة، عن مجاهد، عن ابن عمر: ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ [الصافات: 107] قال: إسماعيل، عنه ذَبَحَ إبراهيم الكبش (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4035 - ثوير بن أبي فاختة واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4035 - ثوير بن أبي فاختة واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ ”اور ہم نے ایک عظیم قربانی کے ساتھ اس کا فدیہ دیا۔“ [سورة الصافات: 107] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، جن کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام نے مینڈھا ذبح کیا۔“
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا عبيد بن حاتم الحافظ العِجْلي، حدثنا إسماعيل بن عُبيد بن أبي كَريمة الحَرّاني، حدثنا عمر بن عبد الرحيم الخطابي، حدثنا عبيد الله بن محمد العتبي - من ولد عتبة بن أبي سفيان -[عن أبيه] (2) قال: حدثنا عبد الله بن سعْد [عن] الصُّنابحي (3)، قال: حَضَرْنا مجلس معاوية بن أبي سفيان، فتذاكر القومُ إسماعيل وإسحاق بن إبراهيم، فقال بعضهم: الذبيح إسماعيل، وقال بعضهم: بل إسحاق الذبيح، فقال معاوية: سقطتُم على الخبير، كنا عند رسول الله ﷺ فأتاه أعرابي، فقال: يا رسول الله، خلفتُ البلاد يابسةً والماء يابسًا، هَلَكَ المال، وضاعَ العِيالُ، فعُدْ عليّ بما أفاء الله عليك يا ابن الذبيحين، قال: فتبسّم رسول الله ﷺ ولم يُنكر عليه، فقلنا: يا أمير المؤمنين، وما الذبيحان؟ قال: إنَّ عبد المطلب لما أمر بحفر زمزم، نَذَرَ الله إن سَهُل له أمرها أن يَنحَر بعض ولده، فأخرجهم فأسْهَم بينهم، فخرج السهم لعبد الله، فأراد ذَبحه، فَمَنَعَه أخواله من بني مخزوم، وقالوا: أرْضِ ربَّك وافْدِ ابنك، قال: ففَدَاه بمئة ناقة، قال: فهو الذَّبيح، وإسماعيل الثاني (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4036 - إسناده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4036 - إسناده واه
حافظ طلحہ بابر
صنابحی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی مجلس میں حاضر تھے کہ لوگوں نے اسماعیل اور اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کا تذکرہ شروع کیا۔ ان میں سے کچھ نے کہا: ذبیح اسماعیل ہیں، اور کچھ نے کہا: بلکہ ذبیح اسحاق ہیں۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک باخبر شخص کے پاس پہنچے ہو۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے علاقے کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ زمین خشک ہے اور پانی خشک ہو چکا ہے، مال ہلاک ہو گیا ہے اور اہل و عیال ضائع ہو رہے ہیں، پس اے دو ذبیحوں (قربان ہونے والوں) کے بیٹے! اللہ نے آپ کو جو مالِ غنیمت دیا ہے اس میں سے مجھ پر احسان فرمائیں۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: اے امیر المومنین! دو ذبیح کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: جب عبدالمطلب کو زمزم کھودنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے اللہ سے نذر مانی کہ اگر ان کا یہ کام آسان ہو گیا تو وہ اپنے بیٹوں میں سے کسی ایک کو ذبح (قربان) کریں گے۔ پس انہوں نے اپنے بیٹوں کو نکالا اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، تو قرعہ عبداللہ کے نام نکلا۔ عبدالمطلب نے انہیں ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو بنو مخزوم سے ان کے ماموؤں نے انہیں روک دیا اور کہا: اپنے رب کو راضی کریں اور اپنے بیٹے کا فدیہ دیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پس انہوں نے سو اونٹنیوں کے ساتھ ان کا فدیہ دیا۔ تو وہ (پہلے) ذبیح ہیں، اور دوسرے اسماعیل علیہ السلام ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عُمر بن قيس، عن عطاء بن أبي رباح، عن عبد الله بن عبّاس أنه قال: المُفدَّى إسماعيل، وزَعَمتِ اليهود أنه إسحاق وكَذَبتِ اليهود (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4037 - سمعه ابن وهب منه يعني من عمر بن قيس وهو هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4037 - سمعه ابن وهب منه يعني من عمر بن قيس وهو هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جن کا فدیہ دیا گیا (یعنی ذبیح) وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، اور یہودیوں نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ اسحاق علیہ السلام ہیں، حالانکہ یہودیوں نے جھوٹ بولا ہے۔“
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرني محمد بن موسى الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن بيان، عن الشعبي، عن ابن عباس: أنه قال في الذي فداه الله بذبحٍ عظيم، قال: هو إسماعيل (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4038 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4038 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے اس ہستی کے بارے میں جن کا فدیہ اللہ تعالیٰ نے ایک ذبح عظیم کے ساتھ دیا، فرمایا: ”وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن إسحاق، قال: سمعتُ محمد بن كعب القرظي يقول: إِنَّ الذي أمر الله إبراهيم بذبحه من ابنيه: إسماعيل، وإنا لنجد ذلك في كتاب الله في قصة الخبر عن إبراهيم وما أمر به من ذبح ابنه أنه إسماعيل، وذلك أنَّ الله يقول حين فرغ من قصة المذبوح من ابنَي إبراهيم، قال: ﴿وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصافات: 112]، ثم يقول: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هود: 71]، يقول: بابن وبابن ابن، فلم يكن يأمرُ بذَبْح إسحاق، وله فيه من الله موعود بما وَعَدَه، وما الذي أُمِرَ بذَبْحه إلّا إسماعيل (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4039 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4039 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو ان کے دونوں بیٹوں میں سے جسے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، اور ہم اسے کتاب اللہ میں ابراہیم علیہ السلام کے واقعے اور انہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم میں پاتے ہیں کہ وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ذبح کیے جانے والے کے واقعے کو مکمل کیا تو فرمایا: ﴿وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ”اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی جو کہ صالحین میں سے ایک نبی ہوگا۔“ [سورة الصافات: 112] پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ ”پس ہم نے اس (ابراہیم کی بیوی) کو اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ [سورة هود: 71] یعنی بیٹے اور پھر پوتے کی بشارت۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اسحاق کو ذبح کرنے کا حکم نہیں دے سکتا تھا حالانکہ اس کا ان کے بارے میں ایک وعدہ تھا جو اس نے ان سے کیا تھا (کہ ان سے آگے یعقوب پیدا ہوں گے)۔ پس جس کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔“