کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمائیں
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن رِبْح السَّمّاك، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن سعيد عن عُبيدٍ المُكْتِب، عن مجاهد، عن ابن عمر قال: خَلَقَ الله أربعةَ أشياءَ بيده: العرشَ، وجنّاتِ عَدْنٍ، وآدمَ، والقلمَ، واحتَجَبَ من الخلق بأربعة: بنارٍ وظُلْمة، ونورٍ وظُلْمة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3244 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا: عرش، جنتِ عدن، آدم اور قلم، اور (اپنی) مخلوق سے چار چیزوں کے ذریعے حجاب فرمایا: آگ، تاریکی، نور اور (پھر) تاریکی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3283
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وهو موقوف. عبيد المكتب: هو ابن مهران.» [ترقيم الرساله 3283] [ترقيم الشركة 3263] [ترقيم العلميه 3244]
أخبرني عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الحميد الجُعْفي، حدثنا عبد العزيز بن أَبان، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن عمرو ابن قيس المُلَائي، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان لباسُ آدمَ وحوَّاءَ مثل الظُّفر، فلما ذاقا الشجرةَ جعلا يَخصِفانِ عليهما من وَرَق الجنة، قال: ورقُ التِّين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3245 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: سیدنا آدم اور سیدہ حوا علیہما السلام کا لباس ناخنوں کی طرح (صاف اور چمکدار) تھا، پھر جب انہوں نے درخت (کا پھل) چکھا تو وہ جنت کے پتے اپنے اوپر جوڑنے لگے، انہوں نے فرمایا: (وہ پتے) انجیر کے درخت کے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3284
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا من أجل عبد العزيز بن أبان فإنه متروك
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًا من أجل عبد العزيز بن أبان فإنه متروك، واتهمه بعضهم بالكذب، لكن لم ينفرد به عن سفيان، فقد تابعه عليه معاوية بن هشام -وهو صدوق- عند البيهقي في "السنن الكبرى" 2/ 244 فرواه عن سفيان الثوري إلّا أنه قال فيه: أظنه عن عمرو بن قيس الملائي، وساق ...» [ترقيم الرساله 3284] [ترقيم الشركة 3264] [ترقيم العلميه 3245]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا شُعْبة، عن سَلَمة بن كُهَيل قال: سمعت مُسلِمًا البَطِين يحدِّث عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كانت المرأة تطوف بالبيت في الجاهلية وهي عُرْيانة وعلى فَرْجِها خِرقةٌ، وهي تقول: اليومَ يَبدُو بعضُه أو كلُّهُ … وما بَدَا منه فلا أُحِلُّهُ فنزلت هذه الآية: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ [الأعراف: 32] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3246 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جاہلیت میں عورت بیت اللہ کا طواف اس حال میں کرتی تھی کہ وہ برہنہ ہوتی اور اس نے اپنی شرمگاہ پر (محض) ایک چیتھڑا باندھا ہوتا، اور وہ (یہ شعر) کہتی: ”آج اس کا کچھ حصہ یا سارا ہی ظاہر ہو جائے گا... اور جو ظاہر ہو جائے اسے میں (کسی کے لیے) حلال نہیں سمجھتی“، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ ”آپ فرما دیں کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے“ [سورة الأعراف: 32]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3285
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو داود الطيالسي: اسمه سليمان بن داود، ومسلم البطين: هو ابن عمران أو ابن أبي عمران.» [ترقيم الرساله 3285] [ترقيم الشركة 3265] [ترقيم العلميه 3246]
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثنا الهيثم بن خالد، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن الشَّعْبي، عن صِلَة بن زُفَرَ، عن حُذَيفة قال: أصحابُ الأعراف قومٌ تجاوَزَت بهم حسناتُهم النارَ، وقَصَّرَت [بهم] سيئاتُهم عن الجنة، فإذا ﴿صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ [الأعراف: 47]، فبينما هم كذلك إذِ اطَّلَعَ عليهم ربُّك، فيقال لهم: قوموا ادخُلوا الجنةَ، فإني قد غَفَرتُ لكم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3247 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اصحابِ اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیوں نے انہیں آگ سے تو بچا لیا لیکن ان کے گناہ انہیں جنت میں داخل ہونے سے روک دیں گے (یعنی دونوں برابر ہوں گے)، پس جب ﴿صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ ”ان کی نگاہیں اہل جہنم کی طرف پھیر دی جائیں گی تو وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا“ [سورة الأعراف: 47]، وہ اسی حال میں ہوں گے کہ آپ کا رب ان پر (رحمت کی) نظر فرمائے گا اور کہا جائے گا: اٹھو اور جنت میں داخل ہو جاؤ، یقیناً میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3286
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق. الهيثم بن خالد: هو ابن يزيد الكوفي ورّاق أبي نعيم والشعبي: هو عامر بن شراحيل.» [ترقيم الرساله 3286] [ترقيم الشركة 3266] [ترقيم العلميه 3247]
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله قال: لما مَرَّ النبيُّ ﷺ بالحِجْر قال: "لا تَسأَلوا الآياتِ، فقد سألها قومُ صالح، فكانت (1) تَرِدُ من هذا الفجِّ وتَصدُرُ من هذا الفجِّ، فعَتَوْا عن أمرِ ربِّهم فعَقَروها، فأخذتهم الصَّيحةُ، فأَهمَدَ اللهُ مَن تحتَ السماءِ منهم إلَّا رجلًا واحدًا كان في حَرَمِ الله" قيل: مَن هو؟ قال: "أبو رِغَالٍ، فلمَّا خرج من الحَرَم أَصابَه ما أصاب قومَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3248 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ حجر (قومِ ثمود کے علاقے) سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجزات کا مطالبہ نہ کرو، کیونکہ قومِ صالح نے (ایسے ہی) مطالبہ کیا تھا، پس وہ (اونٹنی) اس گھاٹی سے آتی اور اس گھاٹی سے جاتی تھی، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اسے ذبح کر ڈالا، تو انہیں ایک ہولناک چنگھاڑ نے آ لیا، چنانچہ اللہ نے آسمان کے نیچے موجود ان کے تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا سوائے ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا“۔ عرض کیا گیا: وہ کون تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ابورغال تھا، پھر جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی وہی مصیبت پہنچی جو اس کی قوم کو پہنچی تھی“۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3287
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم، وتابعه ابن جريج فيما سيأتي عند المصنف برقم (4114)، وأبو الزبير» [ترقيم الرساله 3287] [ترقيم الشركة 3267] [ترقيم العلميه 3248]