حدیث نمبر: 3287
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله قال: لما مَرَّ النبيُّ ﷺ بالحِجْر قال: "لا تَسأَلوا الآياتِ، فقد سألها قومُ صالح، فكانت (1) تَرِدُ من هذا الفجِّ وتَصدُرُ من هذا الفجِّ، فعَتَوْا عن أمرِ ربِّهم فعَقَروها، فأخذتهم الصَّيحةُ، فأَهمَدَ اللهُ مَن تحتَ السماءِ منهم إلَّا رجلًا واحدًا كان في حَرَمِ الله" قيل: مَن هو؟ قال: "أبو رِغَالٍ، فلمَّا خرج من الحَرَم أَصابَه ما أصاب قومَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3248 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ حجر (قومِ ثمود کے علاقے) سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجزات کا مطالبہ نہ کرو، کیونکہ قومِ صالح نے (ایسے ہی) مطالبہ کیا تھا، پس وہ (اونٹنی) اس گھاٹی سے آتی اور اس گھاٹی سے جاتی تھی، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اسے ذبح کر ڈالا، تو انہیں ایک ہولناک چنگھاڑ نے آ لیا، چنانچہ اللہ نے آسمان کے نیچے موجود ان کے تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا سوائے ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا“۔ عرض کیا گیا: وہ کون تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ابورغال تھا، پھر جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی وہی مصیبت پہنچی جو اس کی قوم کو پہنچی تھی“۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3287
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم، وتابعه ابن جريج فيما سيأتي عند المصنف برقم (4114)، وأبو الزبير» [ترقيم الرساله 3287] [ترقيم الشركة 3267] [ترقيم العلميه 3248]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) يعني الناقة.
نوٹ / توضیح: یعنی اونٹنی۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم، وتابعه ابن جريج فيما سيأتي عند المصنف برقم (4114)، وأبو الزبير -وهو محمد بن مسلم بن تَدرُس- صرَّح بسماعه من جابر هناك.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور ابن خثیم کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے۔
متابعات و شواہد: ابن جریج نے مصنف (حاکم) کے ہاں آگے آنے والی روایت نمبر (4114) میں اس کی متابعت کی ہے، اور وہاں ابوالزبیر - جو محمد بن مسلم بن تدرس ہیں - نے حضرت جابر سے اپنے سماع کی تصریح کی ہے۔
وأخرجه أحمد 22 / (14160) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/ 14160) نے عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3343) و (4114).
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت آگے نمبر (3343) اور (4114) پر آئے گی۔
الحِجْر: ديار ثمود قوم صالح، وهي في وادي القُرى شمال المدينة المنوَّرة، تبعد عنها 350 كيلومترًا تقريبًا.
نوٹ / توضیح: "الحِجر": یہ قومِ ثمود (صالح علیہ السلام کی قوم) کا مسکن ہے۔ یہ وادی القریٰ میں مدینہ منورہ کے شمال میں واقع ہے اور اس سے تقریباً 350 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3287 سے ماخوذ ہے۔