المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ قَوْلِهِ تَعَالَى : ( فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ ) باب: آیت “جب اس کا رب پہاڑ پر جلوہ گر ہوا” کی تفسیر
حدیث نمبر: 3288
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب وهشام بن علي قالا: حدثنا عفَّان بن مسلم، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة. وأخبرني محمد بن علي بن بَكْر العَدْل -واللفظ له- حدثنا الحُسين بن الفضل، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ [الأعراف: 143]، قال حمادٌ: هكذا؛ فوضع الإبهامَ على مفصل الخِنصِر، الأيمن، قال: فقال حُمَيدٌ لثابت: تُحدِّث بمثل هذا؟! قال: فضَرَبَ ثابتٌ صدرَ حُميد ضربةً بيده وقال: رسولُ الله ﷺ يحدِّثُ به، وأنا لا أحدِّثُ به؟! (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3249 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ ”پس جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا“ [سورة الأعراف: 143] کے بارے میں (تشریح کرتے ہوئے) اپنے انگوٹھے کو دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے جوڑ پر رکھا (یعنی بہت تھوڑی تجلی فرمائی)، حماد کہتے ہیں: حمید نے ثابت (راوی) سے کہا: کیا آپ ایسی حدیث بیان کر رہے ہیں؟! تو ثابت نے حمید کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسے بیان فرماتے تھے اور میں اسے بیان نہ کروں؟!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3074) عن عبد الله بن عبد الرحمن -وهو الدارمي- عن سليمان بن حرب، بهذا الإسناد. وسلف برقم (66).
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3074) نے عبداللہ بن عبدالرحمن (الدارمی) سے، انہوں نے سلیمان بن حرب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور یہ روایت نمبر (66) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3074) عن عبد الله بن عبد الرحمن -وهو الدارمي- عن سليمان بن حرب، بهذا الإسناد. وسلف برقم (66).
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3074) نے عبداللہ بن عبدالرحمن (الدارمی) سے، انہوں نے سلیمان بن حرب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور یہ روایت نمبر (66) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3288 سے ماخوذ ہے۔