المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
خَلَقَ اللَّهُ أَرْبَعَةَ أَشْيَاءَ بِيَدِهِ باب: اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمائیں
حدیث نمبر: 3285
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا شُعْبة، عن سَلَمة بن كُهَيل قال: سمعت مُسلِمًا البَطِين يحدِّث عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كانت المرأة تطوف بالبيت في الجاهلية وهي عُرْيانة وعلى فَرْجِها خِرقةٌ، وهي تقول: اليومَ يَبدُو بعضُه أو كلُّهُ … وما بَدَا منه فلا أُحِلُّهُ فنزلت هذه الآية: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ [الأعراف: 32] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3246 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جاہلیت میں عورت بیت اللہ کا طواف اس حال میں کرتی تھی کہ وہ برہنہ ہوتی اور اس نے اپنی شرمگاہ پر (محض) ایک چیتھڑا باندھا ہوتا، اور وہ (یہ شعر) کہتی: ”آج اس کا کچھ حصہ یا سارا ہی ظاہر ہو جائے گا... اور جو ظاہر ہو جائے اسے میں (کسی کے لیے) حلال نہیں سمجھتی“، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ ”آپ فرما دیں کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے“ [سورة الأعراف: 32]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو داود الطيالسي: اسمه سليمان بن داود، ومسلم البطين: هو ابن عمران أو ابن أبي عمران.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو داود طیالسی: ان کا نام سلیمان بن داود ہے، اور مسلم البطین: یہ ابن عمران یا ابن ابی عمران ہیں۔
وأخرجه مسلم (3028)، والنسائي (3933) و (1118) من طريق محمد بن جعفر غُندَر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (3028) اور نسائی (3933، 1118) نے محمد بن جعفر غندر کے طریق سے، شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو داود طیالسی: ان کا نام سلیمان بن داود ہے، اور مسلم البطین: یہ ابن عمران یا ابن ابی عمران ہیں۔
وأخرجه مسلم (3028)، والنسائي (3933) و (1118) من طريق محمد بن جعفر غُندَر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (3028) اور نسائی (3933، 1118) نے محمد بن جعفر غندر کے طریق سے، شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3285 سے ماخوذ ہے۔