کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت “اور اللہ تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا” کے نازل ہونے کا سبب
حدثنا عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الحارث بن عُبيد، حدثنا سعيد الجُرَيري، عن عبد الله بن شَقيق، عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يُحرَسُ حتى نزلت هذه الآية: ﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ [المائدة: 67]، فأخرج النبي ﷺ رأسَه من القُبَّة، فقال لهم: "أيها الناسُ، انصَرِفوا، فقد عَصَمَني اللهُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3221 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3221 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حفاظت کے لیے پہرہ دیا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ ”اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا“ [سورة المائدة: 67]، تب نبی کریم ﷺ نے خیمے سے اپنا سر مبارک نکالا اور (پہرے داروں سے) فرمایا: ”اے لوگو! اب تم چلے جاؤ، یقیناً اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ [المائدة: 83]، قال: مع أُمَّة محمد ﷺ وأُمَّتُه شَهِدُوا له بالبلاغ، وشَهِدوا اللرُّسل أنهم قد بَلَّغوا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3222 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3222 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ ”پس ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ دے“ [سورة المائدة: 83] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) امتِ محمد ﷺ کے ساتھ (لکھنا) ہے، کیونکہ اس امت نے آپ ﷺ کے بارے میں پیغام پہنچانے کی گواہی دی، اور تمام رسولوں کے حق میں بھی یہ گواہی دی کہ انہوں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن أبي الضُّحى، عن مسروق قال: أُتِيَ عبدُ الله بضَرْع، فقال للقوم: ادنُوا، فأخذوا يَطعَمُونه، وكان رجل منهم في ناحيةٍ، فقال عبد الله: ادنُ، فقال: إني لا أريده، فقال: لِمَ؟ قال: لأني حرَّمتُ الضَّرعَ، فقال عبد الله: هذا من خُطُوات الشيطان، فقال عبد الله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [المائدة: 87]، ادنُ فكُلْ وكفِّرْ عن يمينِك؛ فإنَّ هذا من خُطُوات الشيطان (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3223 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3223 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس (پکا ہوا) تھن لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے فرمایا: قریب آ جاؤ، چنانچہ لوگ اسے کھانے لگے، جبکہ ان میں سے ایک شخص ایک طرف (ہٹ کر بیٹھ) گیا، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: قریب آؤ، اس نے کہا: میں اسے نہیں کھانا چاہتا، آپ نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ میں نے تھن (کھانے) کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: یہ شیطان کے نقش قدم میں سے ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو، یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ [سورة المائدة: 87]، (پھر فرمایا:) قریب آ کر کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو کیونکہ یہ شیطان کے وسوسوں میں سے ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عبد الله بن جعفر بن دَرَسْتَوَيهِ النَّسَوَي من أصل كتابه لفظًا، حدثنا يعقوب بن سفيان الفَسَوي، حدثنا يحيى بن يعلى بن الحارث، حدثنا أَبي يعلى بنُ الحارث، عن غَيْلان بن جامع المُحارِبي، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن عامر الشَّعْبي، عن أبي موسى الأشعري: أنه شَهِدَ عنده رجلان نصرانيَّان على وصيَّةِ رجل مسلم مات عندهم، قال: فارتاب أهلُ الوصيَّة، فأَتَوْا بهما أبا موسى الأشعريَّ، فاستحلَفَهما بعد صلاة العصر بالله ما اشتَرَيا به ثمنًا ولا كَتَما شهادةَ الله إنا إذًا لمن الآثمِين. قال عامر: ثم قال أبو موسى: والله إنَّ هذه لَقِصَّةٌ .......... (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3224 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3224 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو نصرانیوں نے ایک مسلمان شخص کی وصیت پر گواہی دی جو ان کے پاس (سفر میں) فوت ہو گیا تھا، راوی کہتے ہیں: وصیت کے حقداروں کو شک ہوا تو وہ ان دونوں کو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے، انہوں نے ان دونوں سے نماز عصر کے بعد اللہ کی قسم اٹھوائی کہ ”باللہ! ہم نے اس گواہی کے بدلے کوئی قیمت نہیں لی اور نہ ہی اللہ کی گواہی کو چھپایا ہے، (اگر ہم ایسا کریں) تو ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے“۔ عامر کہتے ہیں کہ پھر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو وہی قصہ ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔