حدیث نمبر: 3264
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن عِمران بن الحكم، عن ابن عبَّاس قال: قالت قريشٌ للنبي ﷺ: ادعُ اللهَ ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا، ونُؤمِنَ بك، قال: "أوَتفعلون؟ " قالوا: نعم، قال: فدَعَا الله، فأتاه جبريل فقال: "إنَّ ربك يَقرأُ عليك السلامَ ويقول: إن شئتَ أصبح لهم الصفا ذهبًا، فمن كَفَرَ منهم عذَّبتُه عذابًا لا أعذِّبُه أحدًا من العالمين، وإن شئت فتحتُ لهم أبوابَ التوبة والرحمة" قال: "يا ربِّ، بابُ التوبةِ والرَّحمة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [6 - تفسير سورة الأنعام] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3225 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم ﷺ سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا (پہاڑ) کو سونا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم (واقعی) ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی تو جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کی: ”آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے صفا سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد ان میں سے جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں کسی کو نہیں دیا ہوگا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دوں“، آپ ﷺ نے عرض کی: ”اے میرے رب! توبہ اور رحمت کا دروازہ (ہی بہتر ہے)“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3264
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهو مكرر (175).» [ترقيم الرساله 3264] [ترقيم الشركة 3244] [ترقيم العلميه 3225]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وهو مكرر (175).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ مکرر ہے (175)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3264 سے ماخوذ ہے۔