المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ : ( وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) باب: آیت “اور اللہ تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا” کے نازل ہونے کا سبب
حدثنا عبد الله بن جعفر بن دَرَسْتَوَيهِ النَّسَوَي من أصل كتابه لفظًا، حدثنا يعقوب بن سفيان الفَسَوي، حدثنا يحيى بن يعلى بن الحارث، حدثنا أَبي يعلى بنُ الحارث، عن غَيْلان بن جامع المُحارِبي، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن عامر الشَّعْبي، عن أبي موسى الأشعري: أنه شَهِدَ عنده رجلان نصرانيَّان على وصيَّةِ رجل مسلم مات عندهم، قال: فارتاب أهلُ الوصيَّة، فأَتَوْا بهما أبا موسى الأشعريَّ، فاستحلَفَهما بعد صلاة العصر بالله ما اشتَرَيا به ثمنًا ولا كَتَما شهادةَ الله إنا إذًا لمن الآثمِين. قال عامر: ثم قال أبو موسى: والله إنَّ هذه لَقِصَّةٌ .......... (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3224 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو نصرانیوں نے ایک مسلمان شخص کی وصیت پر گواہی دی جو ان کے پاس (سفر میں) فوت ہو گیا تھا، راوی کہتے ہیں: وصیت کے حقداروں کو شک ہوا تو وہ ان دونوں کو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے، انہوں نے ان دونوں سے نماز عصر کے بعد اللہ کی قسم اٹھوائی کہ ”باللہ! ہم نے اس گواہی کے بدلے کوئی قیمت نہیں لی اور نہ ہی اللہ کی گواہی کو چھپایا ہے، (اگر ہم ایسا کریں) تو ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے“۔ عامر کہتے ہیں کہ پھر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو وہی قصہ ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں بیاض (خالی جگہ) ہے، اور ہمارا اندازہ ہے کہ یہاں یہ کلام ہو گا: "لم تكن بعد الذي كان في عهد رسول الله ﷺ" (یہ اس واقعے کے بعد نہیں ہوئی جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوا تھا)، جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
والخبر إسناده صحيح إن شاء الله. وأخرجه أبو داود (3605) من طريق زكريا بن أبي زائدة، عن الشعبي: أنَّ رجلًا من المسلمين حضرته الوفاة … وذكر القصة.
درجۂ حدیث: اس خبر کی سند ان شاء اللہ صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اور اسے ابوداؤد نے (3605) میں زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے، انہوں نے شعبی سے تخریج کیا ہے کہ: مسلمانوں میں سے ایک شخص کی وفات کا وقت قریب آیا... اور قصہ ذکر کیا۔
وهذا القضاء من أبي موسى الأشعري على مقتضى الآية السادسة بعد المئة من سورة المائدة.
نوٹ / توضیح: اور ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ایک سو چھ (106) کے تقاضے کے مطابق ہے۔