حدیث نمبر: 3262
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن أبي الضُّحى، عن مسروق قال: أُتِيَ عبدُ الله بضَرْع، فقال للقوم: ادنُوا، فأخذوا يَطعَمُونه، وكان رجل منهم في ناحيةٍ، فقال عبد الله: ادنُ، فقال: إني لا أريده، فقال: لِمَ؟ قال: لأني حرَّمتُ الضَّرعَ، فقال عبد الله: هذا من خُطُوات الشيطان، فقال عبد الله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [المائدة: 87]، ادنُ فكُلْ وكفِّرْ عن يمينِك؛ فإنَّ هذا من خُطُوات الشيطان (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3223 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس (پکا ہوا) تھن لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے فرمایا: قریب آ جاؤ، چنانچہ لوگ اسے کھانے لگے، جبکہ ان میں سے ایک شخص ایک طرف (ہٹ کر بیٹھ) گیا، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: قریب آؤ، اس نے کہا: میں اسے نہیں کھانا چاہتا، آپ نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ میں نے تھن (کھانے) کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: یہ شیطان کے نقش قدم میں سے ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو، یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ [سورة المائدة: 87]، (پھر فرمایا:) قریب آ کر کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو کیونکہ یہ شیطان کے وسوسوں میں سے ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3262] [ترقيم الشركة 3242] [ترقيم العلميه 3223]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي 7/ 354 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 7/ 354 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (772)، ومن طريقه الطبراني (8908) عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کی تفسیر (772) میں، اور انہی کے طریق سے طبرانی نے (8908) میں جریر بن عبدالحمید سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 198 - 199، و"مصنفه" (16042)، والطبراني (8907) من طريق سفيان الثوري، عن منصور بن المعتمر، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 1/ 198 - 199 اور "مصنف" (16042) میں، اور طبرانی نے (8907) میں سفیان ثوری کے طریق سے، انہوں نے منصور بن المعتمر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" (12443 - عوامة) من طريق الأعمش، عن أبي الضحى مسلم بن صُبيح، به -ولم يذكر فيه الآية، وبيَّن في روايته أنَّ الضَّرع ضرع ناقة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ نے اپنی "مصنف" (12443 - عوامہ) میں اعمش کے طریق سے، انہوں نے ابو الضحیٰ مسلم بن صبیح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے - اور اس میں آیت کا ذکر نہیں کیا، اور اپنی روایت میں وضاحت کی کہ ’ضرع‘ (تھن) اونٹنی کا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3262 سے ماخوذ ہے۔