کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے نزدیک قرب کا بڑا ذریعہ ہیں
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، حدثنا الأعمش، عن أبي وائل، عن حُذَيفة: أنه سمع قارئًا يقرأ ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ [المائدة: 35]، قال: القُرْبةَ، ثم قال: لقد عَلِمَ المحفوظون من أصحاب محمد ﷺ أنَّ ابنَ أمِّ عبدٍ من أقربِهم إلى الله وسيلةً (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3216 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3216 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک قاری کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو“ [سورة المائدة: 35]، تو انہوں نے فرمایا: (وسیلہ سے مراد) «الْقُرْبَةَ» ”قربِ الٰہی“ ہے، پھر فرمایا: ”اصحاب محمد ﷺ میں سے جو (علم کو) محفوظ رکھنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) اللہ کے ہاں وسیلے کے لحاظ سے ان سب میں سب سے زیادہ قریب ہیں۔“
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد ابن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، حدثنا سفيان بن حسين، عن الحَكَم، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس قال: آيتانِ منسوختانِ من سورة المائدة: ﴿فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [المائدة:42]، فأنزل الله ﷿: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ [المائدة: 49] … (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3217 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3217 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورہ مائدہ کی دو آیتیں منسوخ ہیں، ایک: ﴿فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ”پس (آپ چاہیں تو) ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض برتیں“ [سورة المائدة: 42]، تب اللہ عزوجل نے (اس کے بدلے) یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ ”اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں“ [سورة المائدة: 49]۔
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام قال: كنا عند حُذَيفة فذكروا ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [المائدة: 44]، فقال رجل من القوم: إنَّ هذا في بني إسرائيل، فقال حذيفة: نِعمَ الإخوةُ بنو إسرائيل أن كان لكم الحُلوُ ولهم المُرُّ، كلَّا والذي نفسي بيده حتى تَحذُوا السُّنةَ بالسُّنةِ حَذْوَ القُذَّةِ بالقُذَّة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3218 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3218 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ہمام سے روایت ہے کہ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے تو لوگوں نے اس آیت کا تذکرہ کیا: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ”اور جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں“ [سورة المائدة: 44]، ایک شخص بولا: یہ آیت تو بنی اسرائیل کے بارے میں ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل تمہارے لیے کیا ہی اچھے بھائی ہیں کہ تمہارے لیے میٹھا (آسانیاں) ہو اور ان کے لیے کڑوا (سختیاں) ہو، ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم بھی (انہی کے نقش قدم پر) اس طرح چلو گے جیسے تیر کا ایک پر دوسرے پر کے برابر ہوتا ہے (یعنی تم پر بھی وہی حکم لاگو ہوگا)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سليمان المَوصِلي، حدثنا علي بن حَرْب، حدثنا سفيان ابن عُيينة، عن هشام بن حُجَير، عن طاووس قال: قال ابن عبَّاس: إنه ليس بالكفر الذي يذهبون إليه، إنه ليس كفرًا يَنقُل عن المِلَّة؛ ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [المائدة: 44]؛ كفرٌ دونَ كفرٍ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3219 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3219 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف یہ لوگ (خوارج وغیرہ) جاتے ہیں، یہ ایسا کفر نہیں جو ملت سے خارج کر دے، بلکہ یہ «كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ» ”کفر سے کم درجے کا کفر“ ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الملك ابن محمد الرَّقَاشي، حدثنا وَهْب بن جَرير وسعيد بن عامر قالا: حدثنا شعبة، عن سِماك بن حَرْب، قال: سمعت عِيَاضً (1) الأشعريَّ يقول: لمَّا نزلت ﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾ [المائدة: 54]، قال رسول الله ﷺ: "هم قَومُك يا أبا موسى"، وأومأَ رسول الله ﷺ بيده إلى أبي موسى الأشعريِّ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3220 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3220 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾ ”تو عنقریب اللہ ایسی قوم لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے“ [سورة المائدة: 54]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو موسیٰ! یہ تمہاری قوم (اہل یمن) ہیں“ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔