حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا الحسن ابن مُكرَم البزَّاز، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا القاسم بن أبي أيوب، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبّاس قال: قال الله لنبيِّه ﷺ: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ (4) وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26] فالطوافُ قبل الصلاة، وقد قال رسول الله ﷺ: "الطَّوافُ بمنزلةِ الصلاة، إلَّا أنَّ الله قدَ أحَلَّ فيه المَنطِقَ، فمن نَطَقَ فَلا يَنطِقْ إِلَّا بخيرٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث عطاء بن السائب عن سعيد بن جُبير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3056 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث عطاء بن السائب عن سعيد بن جُبير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3056 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [سورة الحج: 26]، پس طواف نماز سے پہلے (ذکر) ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیت اللہ کا طواف نماز کے درجے میں ہے مگر یہ کہ اللہ نے اس میں گفتگو کو حلال کر دیا ہے، لہذا جو شخص اس دوران بات کرے تو وہ صرف خیر کی بات ہی کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث عطاء بن سائب کے واسطے سے بھی معروف ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث عطاء بن سائب کے واسطے سے بھی معروف ہے۔
حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال الله تعالى لنبيِّه ﷺ: "طهِّرْ بيتيَ للطائفِين والعاكفِين والرُّكَّعِ السُّجود"، فالطوافُ قبلَ الصلاة (2). هذا متابِعٌ لنصف المتن، والنصفُ الثاني من حديث القاسم بن أبي أيوب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3057 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3057 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [سورة البقرة: 125]، پس طواف نماز سے پہلے ہے۔
یہ روایت حدیث کے نصف متن کی متابعت کرتی ہے۔
یہ روایت حدیث کے نصف متن کی متابعت کرتی ہے۔
أخبرَناه الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أَبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُميدي، حدثنا فُضَيل بن عِيَاض، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، عن النبي ﷺ قال: "الطوافُ بالبيت صلاةٌ إلَّا أَنَّ الله أحَلَّ فيه المَنطِقَ، فمن نَطَقَ فيه فلا يَنطِقْ فيه إلّا بخير" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3058 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3058 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف ایک نماز ہی ہے، سوائے اس کے کہ اللہ نے اس میں بات چیت کرنا حلال کر دیا ہے، پس جو اس میں کلام کرے تو وہ صرف اچھی بات ہی کرے۔“
أخبرنا حمزة بن العبَّاس العَقَبي، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا زكريا بن إسحاق، عن بِشْر بن عاصم، عن سعيد بن المسيّب قال: حدثنا علي بن أبي طالب قال: أقبَلَ إبراهيمُ خليل الرحمن من إرمِينيَة مع السَّكِينة دليل له على موضع البيت كما تتبوَّأُ العنكبوتُ بيتَها، ثم حَفَرَ إبراهيمُ من تحت السَّكينةِ فأَبدَى عن قواعدَ ما يُحرِّك القاعدةَ منها دون ثلاثين رجلًا، قال: فقال … (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خلیل الرحمن سیدنا ابراہیم علیہ السلام ارمنیہ سے ”سکینہ“ (ایک رہبر نوری بادل) کے ساتھ آئے جو بیت اللہ کے مقام کی طرف ان کی رہنمائی کر رہا تھا بالکل اسی طرح جیسے مکڑی اپنے گھر (جالے) کے لیے جگہ کا انتخاب کرتی ہے، پھر ابراہیم علیہ السلام نے سکینہ کے نیچے سے کھدائی کی تو کعبہ کی ایسی بنیادیں ظاہر کیں جن کی ایک ایک بنیاد کو تیس آدمیوں سے کم لوگ نہیں ہلا سکتے تھے۔
[أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرّيِّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد] (2) عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبَّاس قال: أول ما نُسِخَ من القرآن فيما ذُكِرَ لنا - واللهُ أعلم - شأنُ القِبْلة، قال الله: ﴿وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [البقرة: 115] فاستَقبَلَ رسولُ الله ﷺ فصَلَّى نحوَ بيت المقدس وترك البيتَ العتيق، فقال: ﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [البقرة: 142] يَعنُون بيتَ المقدس، فَنَسَخَها وصَرَفَه الله إلى البيت العتيق، فقال: ﴿وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ [البقرة: 150] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3060 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3060 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قرآن میں سے سب سے پہلے جو حکم منسوخ ہوا وہ قبلہ کا معاملہ تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115]، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور بیت اللہ (کعبہ) کو چھوڑ دیا، اس پر (کافروں نے) کہا ﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142]، ان کی مراد بیت المقدس تھی، پس اللہ نے اسے منسوخ کر کے آپ ﷺ کا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر دیا اور فرمایا ﴿وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 150]۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عيسى بن إبراهيم البِرَكي، حدثنا المُعافَى بن عِمران المَوصِلي، حدثنا مصعب بن ثابت، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن جابر بن عبد الله قال: كنت مع رسول الله ﷺ في جنازة فينا في بني سَلِمة وأنا أمشي إلى جنب رسول الله ﷺ، فقال رجل: نِعمَ المَرءُ ما عَلِمْنا، إن كان لَعفيفًا مسلمًا، إن كان … فقال رسول الله ﷺ: "أنت الذي تقولُ؟! " قال: يا رسول الله، ذاك بَدَا لنا واللهُ أعلمُ بالسَّرائر، فقال رسول الله ﷺ: "وَجَبَت". قال: وكنّا معه في جنازة رجل من بني حارثة - أو من بني عبد الأَشهَل، فقال رجل: بئسَ المرءُ ما عَلِمْنا، إن كان لَفظًّا غليظًا، إن كان … فقال رسول الله ﷺ: "أنت الذي تقولُ؟! " قال: يا رسول الله، اللهُ أعلمُ بالسَّرائر، فأمَّا الذي بَدَا لنا منه فذاكَ، فقال رسول الله ﷺ: "وَجَبَت"، ثم تَلَا رسول الله ﷺ: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ [البقرة: 143] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على "وَجَبَت" فقط.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3061 - مصعب ليس بالقوي
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على "وَجَبَت" فقط.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3061 - مصعب ليس بالقوي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بنو سلمہ کے ایک شخص کے جنازے میں تھا اور میں آپ ﷺ کے پہلو میں چل رہا تھا، ایک آدمی نے (میت کی تعریف کرتے ہوئے) کہا: جہاں تک ہمیں معلوم ہے یہ کتنا ہی اچھا آدمی ہے، یہ بڑا پاک دامن اور مسلمان تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں تو یہی ظاہر ہوا ہے باقی اللہ ہی پوشیدہ باتوں کو بہتر جانتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر ہم بنو حارثہ یا بنو عبد الاشہل کے ایک شخص کے جنازے میں تھے تو ایک آدمی نے کہا: جہاں تک ہمیں معلوم ہے یہ کتنا ہی برا آدمی ہے، یہ بڑا بد زبان اور سخت مزاج تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ ہی پوشیدہ باتوں کو بہتر جانتا ہے، ہمیں تو اس سے یہی ظاہر ہوا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ [سورة البقرة: 143]۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”واجب ہو گئی“ کے الفاظ پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”واجب ہو گئی“ کے الفاظ پر اتفاق کیا ہے۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال: قُرئ على يحيى بن جعفر وأنا أسمعُ: حدثنا حماد بن مَسعَدة، عن سفيان الثَّوري، عن الأعمش، عن ذَكْوان، عن أبي سعيد: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ قال: عَدْلًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3062 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3062 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اللہ کے ارشاد ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد ”عادل“ (امت) ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔